اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 879
اتل ما اوحی ۲۱ 729 الاحزاب ۳۳ وَأَزْوَاجُةً أُمَّهُتُهُمْ وَاُولُوا الْأَرْحَامِ جانوں سے بھی اور نبی کی بیبیاں اُن کی مائیں ہیں اور رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں اللہ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتُبِ اللَّهِ مِنَ کی کتاب میں تمام ایمانداروں اور ہجرت کرنے الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُهَجِرِينَ إِلَّا أَنْ تَفْعَلُوا والوں سے مگر یہ کہ اپنے دوستوں کے ساتھ کچھ إلى أولِيكُمْ مَّعْرُوفًا كَانَ ذلِكَ احسان کرنا چاہو۔یہ کتاب میں لکھا ہوا ہے لی۔فِي الْكِتُبِ مَسْطُورًا وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّنَ مِيْثَاقَهُمْ وَمِنْكَ - اور جب ہم نے لیا نبیوں سے ان کا اقرار اور خاص کر تجھ سے ہے اور ابراہیم اور موسیٰ و عیسی ابن مریم سے اور ان سے لیا ہم نے پکا اقرار۔وَمِنْ نُوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَأَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْطَان ۚ لِيَسْلَ الصُّدِقِيْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ وَاَعَدَّ ۹ نتیجہ یہ کہ اللہ پوچھے بچوں سے ان کا سچ اور تیار کیا ہے منکروں کے لئے ٹیس دینے والا لِلْكُفِرِينَ عَذَابًا أَلِيْمَانُ عذاب۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ ۱۰۔اے ایماندار و! اللہ کا احسان یاد کرو جو تم عَلَيْكُمْ إِذْ جَاءَتْكُمُ جُنُودُ فَأَرْسَلْنَا پر ہے جب چڑھ آئے تم پر لشکر تو ہم نے بھیجی ان ا یعنی سورہ نساء میں۔یعنی سب کے علاوہ خاصکر ہمارے حضور سید المرسلین سے بھی اقرار لیا گیا ہے۔آیت نمبر۷ - اَزْوَاجةَ أُمَّهُتُهُمْ۔اور نبی کی بیبیاں ایمان داروں کی ماں ہیں یعنی نبی مومنوں کا روحانی باپ ہے اور اس کے حکم کی تعمیل بڑی ضروری ہے۔اس کی بیبیاں مائیں ہیں۔مائیں چار قسم کی ہوتی ہیں۔(۱) حقیقی (۲) اور حکمی (۳) رضاعی (۴) منہ بولی۔دوسری اور تیسری حکمی ہیں جو سب سے بہتر اور بڑھ کر ہیں کیونکہ حقیقی کی عزت تو عام ہے اور ان کی خاص ہے اور عموم و خصوص میں جو فرق ہے وہ ظاہر ہے۔تو رسول اللہ کی اولا دسلسلہ نبوت میں حکم الہی سے دائمی رہی اس لئے آپ ابتر نہ ہوئے بلکہ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ فرمایا گیا۔یہی وجہ ہے کہ ماگانَ مُحَمَّدٌ اَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ کہا گیا اور نِسَاءِ كُمُ اس کا بدل جو ہو سکتا تھا نہیں فرمایا گیا بلکہ اس کی جگہ وَلكِن رَّسُولَ اللهِ فرمایا گیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ابو الا نبیا ء ہیں کیونکہ ارشاد ہوا ہے۔عُلَمَاءُ أُمَّتِی كَانْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ اور كُلُّ تَقِيٌّ وَّ نَقِيٌّ آلِي