اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 878
اتل ما اوحی ۲۱ الاحزاب ۳۳ وَمَا جَعَلَ أَزْوَاجَكُمُ الَّى تُظهِرُونَ دل اس کے اندر اور نہیں بنا یا تمہاری بیبیوں کو مِنْهُنَّ أُمَّهَتِكُمْ ۚ وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ جن سے تم ظہار کر بیٹھتے ہو واقعی تمہاری ماں اور متبناؤں کو تمہارا بیٹا نہیں بنایا۔یہ تو تمہارے أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ منہ کی بات ہے اور اللہ تو حق ہی بات فرماتا ہے وَاللهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِى السَّبِيْلَ اور وہی سیدھا راستہ بتاتا ہے۔こ اُدْعُوهُمْ لا بَابِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللهِ ۶ - متبناؤں کو پکارا کروان کے ماں باپ کے نام لے کر۔یہی پورا انصاف ہے اللہ کے نزدیک پھر فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي اگر تم کو نہ معلوم ہوں ان کے باپ تو وہ تمہارے الذِيْنِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ دینی بھائی ہیں اور تمہارے آزاد کئے ہوئے فِيمَا أَخْطَأْتُم بِهِ وَلَكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ غلام اور تم پر کچھ گناہ نہیں جس بات میں تم غلطی کر جاؤ لیکن وہ گناہ ہے جس پر تمہارا دلی ارادہ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَّحِيمًا ہو۔( بغیر غلطی کے ) اور اللہ بڑا غفور الرحیم ہے۔ط النَّبِيُّ اَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمُ۔نبی تو بہت ہی پیارا ہے ایمانداروں کو اپنی ے۔ان کو بھائی کر کے پکارو بیٹے کا لفظ کسی پر مت بولو۔(بقیہ حاشیہ) نہیں لگا سکتا ورنہ متعدد اولاد اور مکانات اور جانوروں وغیرہ سے خلاف فطرت کیونکر کوئی تعلق رکھ سکے گا۔اس مضمون کو حضرت مولانا روم نے مثنوی میں بہت ہی خوب بیان کیا ہے۔ہم خدا خوا ہی و ہم دنیائے دوں ایں خیال ست و محال است و جنوں مگر صاحب مثنوی نے دنیائے دوں کہہ کر دنیائے حسنہ کو الگ کر دیا ہے جس کے لئے ہر مومن صالح دست بدعا ب رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ - تُظهِرُونَ۔جن سے تم ظہار کر بیٹھے۔ظہار ایک قسم کی تحریم ہے یعنی بی بی کو ماں کہنا بغرض تحریم اس کا کفارہ سورہ مجادلہ میں آئے گا۔ابناء كُم۔وہ تمہارے بیٹے نہیں مُتبنی بنانا گویا خدا کا مقابلہ کرنا ہے کہ تو نے نہیں دیا تو ہم نے خود ہی لے لیا۔ست و دیا والے بولتے ہیں کہ نیوگ کا بیٹا بھی ایسا ہی ہے ، مگر تعجب ہے کہ واقعات صحیحہ سے انکار کرتے ہیں۔