اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 877
اتل ما اوحی ۲۱ الاحزاب ۳۳ سُوْرَةُ الْاَحْزَابِ مَدَنِيَّةٌ وَّ هِىَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ اَرْبَعٌ وَّ سَبْعُونَ آيَةً وَّ تِسْعَةُ رُكُوعَاتٍ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔ہم سورۃ احزاب کو اللہ جل شانہ کے اسم شریف سے پڑھنا شروع کرتے ہیں جو بے محنت انعام دینے والا محنت کا صلہ عطا فرمانے والا ہے۔ياَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللهَ وَلَا تُطِعِ الْكَفِرِيْنَ ۲-اے نبی! اللہ ہی کوسپر بنا۔منکروں کا کہا نہ مان اور نہ منافقوں کا۔کچھ شک نہیں کہ اللہ بڑا وَالْمُنْفِقِينَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيْمَانُ جاننے والا بڑا حکمت والا ہے۔وَاتَّبِعْ مَا يُوحَى إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ إِنَّ اللهَ۔اور وحی کی پیروی کر جو تیرے رب کی طرف سے تجھ پر آتی ہے۔کچھ شک نہیں کہ اللہ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًان تمہارے اعمالوں سے بے خبر نہیں۔وَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ وَكَفَى بِاللهِ وَكِيْلًا ۴۔اور اللہ پر بھروسہ رکھ اور اللہ ہی کارساز こ ہے کافی۔مَا جَعَلَ اللهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِ ۵۔اللہ نے نہیں پیدا کئے کسی شخص کے لئے دو آیت نمبر ۴۔تَوَكَّل۔بھروسہ۔س: تو کل کیا شے ہے؟ ج: جو اسباب جناب الہی نے مقرر فرمائے ہیں ان کو بہم پہنچا کر ان کے نتائج کا دینا اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف سمجھنا۔تو کل کے یہ معنی نہیں کہ خدا کے بنائے ہوئے اسباب کو مہیا نہ کرنا یا مہیا شدہ اسباب سے کام نہ لینا۔ہاتھ پاؤں تو ڑ کر بیٹھ رہنا کیونکہ یہ تو بجز اور کسل ہے جس سے سر اور عالم نے پناہ مانگی ہے۔گر توکل می کنی در کار کن کسب کن پس تکیہ کر جبار کن رمز الكَاسِبُ حَبيبُ الله شنو کار کن پس کار کن کاہل مشو کار آن کاری که حق فرموده است نه چنان کاری که حق نابوده است آیت نمبر ۵۔مِنْ قَلْبَيْنِ۔دو دل۔نذیر احمد خان نے رسالہ محصنات میں اس آیت شریف سے تعدد ازواج پر بخیال عام زد کی ہے اور تفسیر بالرائے کا ارتکاب کیا ہے مگر وہ خود بھی ایک دو تین کا خیال رکھتے ہوں گے مثلاً اللہ کریم ، رسول کریم اور قرآن کریم کا۔یہاں صرف اتنا ہی مطلب ہے کہ محب خدا مغضوب خدا سے دل