اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 870
اتل ما اوحی ۲۱ ۸۷۰ لقمن ٣١ هُوَ جَازِ عَنْ وَالِدِهِ شَيْئًا إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ آوے اپنے باپ کے۔کچھ شک نہیں کہ اللہ کا وعدہ بالکل سچا ہے تو تم کو دھوکا نہ دے دنیا کی فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيوةُ الدُّنْيَا وَلَا يَغُرَّ نَكُمْ زندگی اور اللہ کے مقدمہ میں تم کو فریب نہ دے بِاللهِ الْغَرُورُ وقفة شیطان۔اِنَّ اللهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ ۳۵۔بے شک اللہ ہی کو قیامت کا علم ہے اور こ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وہی برساتا ہے بارش کی۔وہ جانتا ہے جو ماں کے پیٹ میں ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا کام وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا کرے گاتے اور کوئی نہیں جانتا کہ کس زمین میں وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضِ تَمُوتُ مرے گا۔بے شک اللہ ہی بڑا جانے والا بڑا خبر دار ہے۔إِنَّ اللَّهَ عَلِيْمٌ خَبِيرٌة ا یعنی نزول وحی فرماتا ہے۔تو جاہل نا دانوں کا دعویٰ غلط ہے۔سے تو ملک اور زمینداروں کے دعووں سے کیا کام چلے گا۔آیت نمبر ۳۴ - اَلْحَيَوةُ الدُّنْیا۔دنیا کی زندگی یعنی یہ نہ سمجھنا اب تو آرام سے گزرتی ہے عاقبت کی خبر خدا جانے بلکہ دنیا کے کام جیسے سوچ بچار کر کرتے ہو آخرت کے کام اس سے زیادہ ہوشیاری اور استقامت سے کرو کیونکہ کیا دنیا اور کیا دنیا کی زندگی اور کیا پڑی اور کیا پدی کا شور با۔اللہ نے فرمایا: وَ اِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ (العنكبوت : ۶۵) وَمَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ وَأَبْقَى (القصص :(٢١)۔بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَوةَ الدُّنْيَا اِنَّ هَذَا لَفِي الصُّحُفِ الأولى صُحُفِ اِبْرهِيمَ وَمُوسى (الاعلى : ۱۸ تا ۲۰)۔دنیا دار جو دولت کے نشہ سے بدمست ہوتا ہے اس کا حال کسی نے یوں بیان کیا ہے۔نشہ دولت کا بد اطوار پہ جس آن چڑھا گویا شیطان پر ایک اور بھی شیطان چڑھا الْغَرُورُ۔یعنی شیطان۔شیطان کا دھوکہ نہ کھانا کہ اللہ غفور الرحیم ہے ہم بخشے جائیں گے۔وہ تو شدید العقاب بھی ہے اور ذرہ ذرہ کا حساب لینے والا بھی۔الْغُرُور کا لفظ جو قرآن شریف میں آیا ہے۔وہ شیطان کا نام ہے۔جس شخص میں غرور ہو وہ اپنے کو شیطان کی گرسی اور اس کی نشست گاہ سمجھے۔آیت نمبر ۳۵۔مَا فِي الْأَرْحَامِ۔جو ماں کے پیٹ میں ہیں یہ پیشگوئی بھی ہے ان بچوں کی طرف جو ماں کے پیٹ سے مسلمان پیدا ہونے والے ہیں۔