اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 866 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 866

اتل ما اوحی ۲۱ ۸۶۶ لقمن ٣١ يُبْنَى إِنَّهَا إِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ ۱۷۔اے میرے پیارے بیٹے ! اگر کوئی چیز رائی مِنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي کے دانہ برابر ہو اور وہ کسی پتھر کے اندر یا آسمانوں میں یا زمین میں ہو تو اسے اللہ لے السَّمُوتِ اَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللهُ آئے گا بے شک اللہ بڑا باخبر باریک بین ہے۔اِنَّ اللهَ لَطِيفُ خَبِيرٌ المرة ينَى أَقِمِ الصَّلوةَ وَأمُرُ بِالْمَعْرُوفِ ۱۸۔اے میرے پیارے بیٹے ! نماز کو ٹھیک درست رکھ اور بھلے کام کا حکم کر اور بُرے کام وَانهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِرْ عَلَى مَا سے منع کر اور نیکی پر جمارہ اور بدی سے بیچ جو کچھ أَصَابَكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ تجھ پر بیتے۔کیوں کہ یہ ہیں بڑی ہمت کے کام۔وَلَا تُصَحِرُ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ ۱۹۔اور منہ نہ پھیر لیا کر لوگوں سے اور نہ چل زمین پر اکڑ کر بے شک اللہ پسند نہیں کرتا کسی ط فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ اترانے والے شیخی باز کو۔كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِةٌ وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ ۲۰۔اپنی تمام چال چلن میں میانہ روی اختیار مِنْ صَوْتِكَ إِنَّ اَنْكَرَ الْأَصْوَاتِ کرو اور نرم کر اپنی آواز کو۔کچھ شک نہیں کہ بہت ہی بُری آواز گدھوں کی ہے۔b لَصَوْتُ الْحَمِيرِن ا یعنی نوکروں اور فرمانبرداروں وغیرہ پر مت چلا ؤ۔آیت نمبر ۱۷ - يَأْتِ بِهَا الله - اسے اللہ لے آئے گا۔یعنی اللہ کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں تو کہاں چھپ کر کوئی بُرائی کرو گے۔آیت نمبر ۱۸- عَزْمِ الْأُمُورِ۔بڑی ہمت کے کام۔خدا کے کام میں یہ ہمت کام لیں مصیبتیں پیش آئیں گی۔مالی و جانی نقصان اٹھانا پڑیں گے سب کی برداشت کرنے کے لئے مستعد رہنا۔اس کام میں جیسا صبر وقتل بتانا لازم ہے ویسا ہی خود عامل ہونا بھی لازم ہے۔آیت نمبر ۲۰۔اِنَّ اَنْكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ۔بہت بُری آواز گدھے کی آواز ہے یعنی غصے اور تکبر سے اونچی اونچی آواز نکالنا گدھا پن ہے۔صَوتُ الْحَمِيرِ سے مراد عالم بے عمل کی آواز ہے کیونکہ مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْريةَ۔۔۔كَمَثَلِ الْحِمَارِ سورہ جمعہ میں آیا ہے۔