اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 861 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 861

اتل ما اوحی ۲۱ ۸۶۱ الروم ٣٠ يُؤْفَكُونَ بھٹکتے پھرتے تھے۔وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَالْإِيْمَانَ لَقَدْ ۵۷۔اور کہیں گے وہ لوگ جن کو علم دیا گیا ہے لَبِثْتُمْ فِي كِتَبِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْبَعْثِ اور یقین قلبی کہ تم ٹھہرے اللہ کے محفوظ حکم کے موافق بعثت کے دن تک تو یہ بعثت ہی کا دن فَهَذَا يَوْمُ الْبَعْثِ وَلَكِنَّكُم كُنتُم ہے لیکن تم تو جانتے ہی نہ تھے۔لَا تَعْلَمُونَ فَيَوْمَذٍ لَّا يَنْفَعُ الَّذِينَ ظَلَمُوا ۵۸ تو اُس دن فائدہ نہ دیں گی اُن ظالموں کو اُن کی عذر خواہیاں اور نہ اُن کو ہماری دہلیز مَعْذِرَتُهُمْ وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُوْنَ نصیب ہوگی۔وَلَقَدْ ضَرَ بْنَا لِلنَّاسِ فِي هَذَا الْقُرْآنِ مِنْ ۵۹۔اور ہم نے بیان کر دی ہیں اس قرآن میں كُلِّ مَثَلٍ وَلَبِنْ جِئْتَهُمْ بِايَةِ لَيَقُولَنَّ لوگوں کے لیے ہر قسم کی اعلیٰ درجہ کی باتیں اور اگر تو اُن کے پاس لائے کوئی نشان تو کا فرضرور الَّذِيْنَ كَفَرُ وا إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا مُبْطِلُوْنَ ) کہیں گے کہ تم تو جھوٹے ہی ہو۔(بقیہ حاشیہ ) تھوڑی سی زندگی میں بھلا کوئی کیا کرے۔اہل علم والا ایمان نے جوان کو جواب دیا کہ تم کتاب اللہ یعنی شریعت کی رو سے یوم قیامت تک رہے ہو کیونکہ ہم بھی تو تمہارے ساتھ ہی تھے۔ایک ہی قسم کی مدت اور واقعات میں دنیا کی زندگی کئی چونکہ انسان ایسے بھی اعمال کر سکتا ہے قلیل عمر میں جو سلسلہ اعمال صالح کا قیامت تک منقطع نہ ہو جیسے اعمالِ شہید قیامت تک شمار کئے جاتے ہیں ،صدقہ جار یہ علم کا پھیلانا وغیرہ وغیرہ امور۔الدَّالُ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِه غرض مختلف ذرائع ہیں جن سے اپنی موجودہ زندگی سے انصرام کے بعد بھی انسان اپنے اعمال صالح کو جاری رکھ سکتا ہے۔پس قلیل مدت کا عذر بنا نا کسی صورت میں صحیح نہیں جو الفاظ کہ اوقات پر دلالت کرتے ہیں انہیں گھٹنا اور بڑھنا متکلم کے حال اور محاورہ سے مختلف ہوتا ہے۔چنانچہ سَنَةُ الْوِصَالِ سَنَةٌ وَسَنَةُ الْهِجْرِ سِنَةٌ۔مشہور مثال ہے۔نابغہ ذبیانی اپنے غم کی رات کی درازی بیان کرتے ہوئے یوں کہتا ہے۔كِلِيُنِي لِهَمْ يَا أُمَيْمَةَ نَاصِبٍ وَلَيْلٍ أُقَاسِيْهِ بَطِئَ ءِ الْكَوَاكِبِ تَطَاوَلَ حَتَّى قُلْتُ لَيْسَ بِمُنْقَضِ وَلَيْسَ الَّذِي يَرْعَى النُّجُومَ بِائِبِ