اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 860
اتل ما اوحی ۲۱ ۸۶۰ الروم ٣٠ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ نہ بہروں کو پکار کر سنا سکتا ہے جب وہ منہ پھیریں پیٹھ پھیر کر۔وَمَا أَنْتَ بِهدِ الْعُمُيِ عَنْ ضَللَتِهِمْ إِنْ ۵۴۔اور نہ تو راستہ دکھا سکتا ہے اندھوں کو ان تُسْمِعُ إِلَّا مَنْ يُؤْمِنُ بِايْتِنَا فَهُمْ کے پیچھے ہٹنے سے بھول سے۔ہاں تو تو انہیں کو مُّسْلِمُونَ سنا سکتا ہے جو ہماری آیتوں کو مانتے ہیں پھر وہ یچ تو فدائی فرمانبردار ہیں۔اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفِ ثُمَّ جَعَلَ : ۵۵ - اللہ وہ ہے جس نے پیدا کیا تم کو کمزور مِن بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا وَشَيْبَةً يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْقَدِيرُ وهجها في اللثة لكن العلم ماعارة حالت سے پھر تم کو نا توانی کے بعد توانائی دی پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا۔وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور وہی بڑا جاننے والا صاحب قدرت ہے۔وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ۵۶۔اور جس دن الساعة قائم ہوگی تو قطع تعلق کرنے والے قسمیں کھائیں گے سے کہ وہ مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ كَذَلِكَ كَانُوْا دنیا میں نہیں رہے بغیر ساعت کے۔اسی طرح وہ ضعف و قوت کے اسباب۔ے کہ ضعیف کو قوی ہونے کے اسباب عطا فرمائے گا۔سے یعنی قیامت ہم پر ہمیشہ بر پاتھی یا ایک گھڑی سے زیادہ نہ رہے۔(بقیہ حاشیہ) مُدْبِرِيْنَ۔پیٹھ پھیر کر کیونکہ بہر ا سامنے ہو تو ہونٹوں کے اشارے سے بھی باتوں کو تاڑ جاتا ہے۔پیٹھ پیچھے کیا سمجھے۔آیت نمبر ۵۵ - مِنْ ضُعْفِ۔اللہ وہ ہے جس نے تم کو پیدا کیا کمزور حالت سے۔اب اسلام کی اوّل و آخر حالت پر تمثیلی پیشگوئی کا بیان ہوتا ہے۔پہلے تم تھوڑے اور کمزور تھے پھر قوت دار اور بہت ہو گئے پھر ضعف ہوگا۔آیت نمبر ۵۶ - مَا لَبِثُوا۔کافروں نے دنیا میں رہنے کی مدت کو بہت کم بیان کیا جس سے ان کا مقصد ہے عذر تراشنا ہے کہ مدت قلیل میں عقائد میں فکر اور اعمال صالح کا انتخاب اور اُن کی بجا آوری نہیں ہوسکتی۔کسی نے کہا ھے عشق بتاں وذکر خدا یاد رفتگاں