اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 855
اتل ما اوحی ۲۱ ۸۵۵ الروم ٣٠ فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ ۳۱۔تو تو اپنی توجہ دین ہی پر مضبوط کر سب سے الگ ہو کر اللہ ہی کا طرفدار بن کر۔لوگوں کو اللہ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ نے جس پر پیدا کیا وہی اصلی فطرت ہے۔اللہ کی لِخَلْقِ اللهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ بنائی ہوئی خلق کو تبدیل نہیں۔یہی مضبوط اور پائیدار دین ہے لیکن بہت سے آدمی جانتے ہی نہیں۔أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ مُنِيْبِينَ إِلَيْهِ وَاتَّقُوهُ وَاَقِيْمُوا الصَّلوةَ ۳۲۔اللہ ہی کی طرف رجوع کرو اور اسی کو سپر بناؤ اور نماز کو ٹھیک درست رکھو اور مشرکوں وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ میں سے نہ ہو جاؤ۔مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا ۳۳۔جنہوں نے ٹکڑے ٹکڑے کیا اپنے دین کو اور ٹکڑیاں ٹکڑیاں ہو گئیں۔سب فرقے اپنے پاس والی چیز پر خوش ہیں۔كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ آیت نمبر ۳۱۔فِطْرَتَ اللهِ۔اللہ نے جس پر پیدا کیا ہے۔اصلی فطرت ہے۔سوال: فطرت ہے تو پھر نبوت کی کیا ضرورت ہے؟ جواب: چونکہ فطرت کی خلاف ورزی ہوتی ہے اس لئے نبی فطرت اللہ سے ہر بد کار کوملزم قرار دیتا ہے۔گورنمنٹ کے قانون امور بعد الوقوع کا تدارک کرتے ہیں اور شریعت مبادی مقدمات کی بھی حفاظت کرتی ہے اور یہ اللہ کے افعال اور اقوال ہیں جو اولی اور احسن ہیں۔غرض جس طرح فطرت خادم کو مخدوم بنانا پسند نہیں کرتی اور کوئی اپنے خادم کو مخدوم نہیں بنانا چاہتا اسی طرح اللہ بھی شرکت کو نا پسند فرماتا ہے۔آیت نمبر ۳۳ - فَرَّقُوا دِينَهُھ۔یعنی پراگندہ کر دیا اپنے مذہب کو۔اس سے مرادان لوگوں کی مذمت ہے جو دین کو بکمالہ تسلیم نہیں کرتے بلکہ بعض اعمال و عقائد کو تسلیم کرتے اور بعض کا انکار کرتے جیسے نصاریٰ کے مقابلہ میں یہود مسیج کو تسلیم نہیں کرتے اور اہل اسلام کے مقابلہ میں نصاری وغیرہ جو نبی علیہ کو تسلیم نہیں کرتے اور اسلام میں خوارج اور شیعہ اور غیر احمدی کہ بعض اہل بیت کے دشمن اور مسیح موعود کے دشمن۔اس آیت میں احمدی مراد نہیں کیونکہ انہوں نے تمام دین کو مع مسیح موعود کے قبول کیا اور کسی امر دینی کو چھوڑا نہیں بلکہ سب دین کو جمع کیا۔اس آیت سے لوگوں کو علیحدہ کر کے جماعت بنانا اس کی مذمت نہیں بلکہ دین کے کسی حصہ کے الگ کرنے کی مذمت ہے۔فَرِحُونَ۔اپنے پاس والی چیز پر خوش ہیں۔یعنی جزوی اختلافات میں غرق اور منہمک ہو کر بجائے خود خوش ہیں اور وحدانیت اور اتحادا اور کامل راستی کی سمجھ ان سے جاتی رہی جو موجب زوال قوت روحانی اور سلطنت ظاہری و اخروی ہے۔