اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 854
اتل ما اوحی ۲۱ ۸۵۴ الروم ٣٠ فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ زمین میں اور وہ بڑا ز بر دست حکمت والا ہے۔الْحَكِيمُن۔ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ أَنْفُسِكُمْ هَلْ ۲۹۔ایک مثال بیان فرمائی ہے تمہارے لئے لَكُمْ مِنْ مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ شُرَكَاءَ تمہارے ہی میں سے جن چیزوں کے تمہارے ہاتھ مالک ہیں کیا ان میں سے کوئی شریک ہے فِي مَا رَزَقْنَكُمْ فَأَنْتُمْ فِيْهِ سَوَاءِ اس چیز میں جو ہم نے تم کو دی تو تم سب اس تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنْفُسَكُمْ كَذَلِكَ میں برابر ہو جاؤ بلکہ تم ان سے ڈرو جیسا اپنوں سے ڈرتے ہو۔ہم اسی طرح تفصیل وار بیان کرتے ہیں ان کے لئے جو عقل رکھتے ہیں۔نُفَصِّلُ الْآيَتِ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ بَلِ اتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَهْوَاءَهُمْ ۳۰۔بے جا کام کرنے والے تو پیچھے پڑ گئے ہیں اپنی گری ہوئی خواہشوں کے بے علمی سے تو کون بِغَيْرِ عِلْمٍ ۚ فَمَنْ يَهْدِي مَنْ أَضَلَّ الله وَمَا لَهُمْ مِّنْ نَّصِرِينَ اے یعنی بے پوچھے اپنی سمجھ پر چلا۔اسے ہدایت دیتا ہے جسے اللہ نے راہ سے ہٹا دیا اور ایسے ظالموں کا تو کوئی مددگار بھی نہیں ہوتا ہے۔ہے کیوں کہ وہ تحقیق کے در پے نہیں رہتے۔آیت نمبر ۲۹ - مِنْ أَنفُسِكُمْ۔ایک مثال بیان کی ہے تمہارے لئے ہی ” میں سے، یعنی نفی شرک کی دلیل بیان کی جاتی ہے کہ تمہارے اعضاء وغیرہ جو ہیں اس کا کوئی مالک متصرف ہے تمہارے سوا اور جب اپنی چیز میں کسی کو شریک نہیں سمجھے تو خدائی معاملات میں کوئی خدا کا شریک کیسا؟ يَعْقِلُونَ۔دنیا کی پوجا کی چیزیں سب کی سب انسان کی خادم ہیں خادم کو مخدوم بنانا جائز نہیں کجا یہ کہ معبود بنایا جائے۔آدمی تو اپنے غلام کو اپنے برابر نہیں سمجھتے تو خدا کسی مخلوق کو اپنے برابر کیوں بنانے لگا مگر یہ نصیحت اسی کے لئے ہے جو عقل رکھتے ہیں۔آیت نمبر ۳۰۔بِغَيْرِ عِلْم۔بے علمی سے لوگ کاموں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔یہ سوال ہے کہ نبوت کی کیا ضرورت ہے؟ جواب۔بغیر علم صحیح اپنی سمجھ سے کام نہیں چلتا۔ادنی ادنی کام کے لئے پستہ کی ضرورت ہے تو کیا خدارسیدگی کے لئے نبی ورہنما کی ضرورت نہیں؟ جیسا کہ ابو ہریرہ سے منقول ہے۔فرمایا رسول اللہ علیہ نے سب بچے فطرت پر ہی پیدا ہوتے ہیں پھر ان کے ماں باپ انہیں یہودی اور نصرانی اور مجوسی بنا لیتے ہیں پھر یہ ہی آیت اس کے ساتھ پڑھے الخ مشکوہ صفحه ۸۳ (مشکوۃ کتاب الایمان، فصل الاول ، باب الایمان بالقدر حدیث نمبر ۹۰)۔