اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 853 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 853

اتل ما اوحی ۲۱ ۸۵۳ الروم ٣٠ وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَيُحْيِ بِهِ الْأَرْضَ اتارتا ہے بدلی سے پانی پھر اس سے زندہ کرتا ہے زمین کو اس کے مرے پیچھے۔کچھ شک نہیں بَعْدَ مَوْتِهَا إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَتٍ لِقَوْمٍ کہ اس میں بھی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں۔يَعْقِلُونَ وَمِنْ أَيْته اَنْ تَقُومَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضُ ۲۶۔اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ قائم ہیں آسمان وزمین اس کے حکم سے تو جب تم بِأَمْرِهِ ثُمَّ إِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةٌ مِنَ کو بلائے گا ایک بار آواز دے کر زمین سے اسی الْأَرْضِ إِذَا أَنْتُمْ تَخْرُجُونَ وقت تم نکل پڑو گے۔وَلَهُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ۲۷۔اور اسی کا ہے جو آسمان وزمین میں ہے اور سب ہی اس کے فرمانبردار ہیں۔كن له فنتون وَهُوَ الَّذِي يَبْدَوا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ۲۸۔وہی ہے جو خلق کو پیدا کرتا ہے پھر اسے وَهُوَ اهْوَنُ عَلَيْهِ وَ لَهُ الْمَثَلُ الْأَعْلى بار بار بناتا ہے اور یہ اس پر بہت آسان ہے اور اعلیٰ درجہ کی مثال اسی کے لئے ہے آسمانوں اور (بقیہ حاشیہ ) جل جاتے ہیں۔کھیت خراب ہو جاتے ہیں۔مکانات خراب ہو جاتے ہیں۔فائدے یہ ہیں ہزاروں قسم کے زہریلے مواد اور کیڑوں کو جلا دیتی ہے۔ہواؤں کو صاف کر دیتی ہے وغیرہ۔صوفیوں کے پاس تجلیات قہر ہ۔آیت نمبر ۲۸ - وَلَهُ الْمَثَلُ الْأَعْلیٰ۔اور اعلیٰ درجہ کی مثال اللہ کے لئے ہے یعنی عمدہ صفات سے وہ موصوف اور ناقص صفات سے وہ پاک ہے۔حضرت نورالدین صاحب سے ان کے بچپنے میں کسی نے یہ سوال کیا تھا کہ خدا کا تخت پر بیٹھنا کیا معنے رکھتا ہے۔جس کا جواب یہ دیا کہ بیٹھنا بہت قسم کا ہوتا ہے۔دیوار کا بیٹھنا۔کاتب کے حروف کا بیٹھنا یعنی حروف کی نشست۔ساہوکار کا بیٹھنا وغیرہ وغیرہ۔اس وقت بادشاہ لندن اپنے تخت پر بیٹھا ہے۔کھانے اور پینے کے اعتبار سے بھی بیٹھنا بولا جاتا ہے اور یہ بھی سنتے ہیں فلاں کی محبت اور عداوت فلاں کے دل میں بیٹھ گئی وغیرہ محاورات۔معلوم ہوتا ہے کہ موصوف کے بدلنے سے اصفات بدل جاتے ہیں تو خداوند تعالیٰ جَلَّ جَلالہ کا بیٹھنا جو وراء الورا ہستی ہے کیونکر ہمارے ذہنی معنی کے موافق ہو سکتا ہے۔اسی طرح یہ اللہ کا لفظ ہے۔مثلاً میرا ہاتھ، گھوڑے کا ہاتھ ، چیونٹی کا ہاتھ فلاں شخص فلاں شخص کا ہاتھ ہے اور فلاں شخص فلاں شخص کے ہاتھ میں ہے وغیرہ وغیرہ امور عمر فیہ۔غرض یہ ایک عجیب مضمون صفات کے متعلق ہے جس میں بہت غور و تدبر کرنا چاہئے۔جو سوچتے نہیں وہ بڑی غلطی کرتے ہیں اور اپنے قیاس سے بے سوچے سمجھے تو جیہ کر جاتے ہیں انہوں نے تشبیہات کا علم نہیں سمجھا۔جب تشبیہ کی صورت بدلتی ہے تو پھر اعتراض کہاں رہتا ہے۔