اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 851
اتل ما اوحی ۲۱ ۸۵۱ الروم ٣٠ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا ۱۹۔اور اسی کے لئے حمد ہے آسمانوں اور زمین میں اور تیسرے پہر اور دو پہر جب ہو۔وَحِينَ تُظْهِرُونَ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيْتِ وَيُخْرِجُ الْمَيْتَ ۲۰۔وہ اللہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے ہے اور زمین کو زندہ مِنَ الْحَيَّ وَيُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا کرتا ہے اس کے مرے پیچھے۔اسی طرح وَكَذَلِكَ تُخْرَجُونَ قبروں سے نکالے جاؤ گے۔وَمِنْ أَيْته أَنْ خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا ۲۱۔اور اس کے نشانات میں سے( ایک) یہ نشان بھی ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا۔لے کافر سے مومن ، نطفہ وانڈے سے بچہ۔علم کے بعد جہالت آدمی سے نطفہ مرغی سے انڈہ۔آیت نمبر ۲۰۔كَذَلِكَ تُخْرَجُونَ۔اسی طرح قبروں سے نکالے جاؤ گے۔س: قرآن نے کیا کیا بتایا؟ ج: (١) ہستی باری تعالیٰ کے دلائل (۲) ملائکہ (۳) تقدیر (۴) رسالت (۵) کتابوں کی ضرورت (۶) ختم نبوت (۷) خاتم نبی کے فیوض (۸) مرکز جی اٹھنے کی بحث۔جب ان چیزوں پر ایمان کامل ہو جائے تو پھر اعمال ہے۔صالحہ کی ضرورت ہے جیسے نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ ، اخلاق فاضلہ جس کا پتہ قوم کے تعامل سے لگتا۔بدیہات کی کوئی ایسی تعریف نہیں کر سکتا جو جامع مانع ہو خبر وانشا کی تعریف بچوں تک کو غلط معلوم ہوتی ہے بعض سفہاء کہتے ہیں کہ قرآن مجمل ہے اور حدیث وغیرہ علوم کی ضرورت ہے اور قرآن شریف جواب دیتا ہے تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ (النحل: ۹۰) سچ یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف کو چار قسم پر تقسیم فرمایا ہے (۱) وہ الفاظ جس کو عام لوگ بھی سمجھتے ہیں اور ادنیٰ لغات بھی ان کا پتہ دیتی ہیں (۲) تعامل یعنی وہ معنے جو رسول کریم نے صلوۃ و صوم وغیرہ کے لاکھوں آدمیوں کے سامنے عمل کر کے بتایا اور نسلاً بعد نسل مسلمانوں کے خاندان میں وہ عامی ہوں یا خواندہ چلے آ رہے ہیں جس طرح قرآن شریف تواتر سے ہم تک پہنچا ہے۔اسی طرح وہ اپنے بعض الفاظ کے معنی بھی بتواتر ساتھ لایا ہے جو قر آنی تواتر سے بھی بڑھ کر تو اتر رکھتے ہیں اور اس میں کسی طرح کا بھی اختلاف نہیں (۳) ایک حصہ قرآنی الفاظ کا ایسا ہے جو مرے پیچھے حل ہوگا کیونکہ ان کے حقائق کھلنے کی جگہ اس دنیا میں عام لوگوں کے لئے نہیں (۴) وہ حصہ ہے جس کو کتب الہامیہ سابقہ یا کتب علم رو یا بیان کرتے ہیں اور وہ بھی عوام کے بیان سے بڑھ کر ہے۔خلاصہ یہ کہ قرآنی علوم لغت ، تعامل علم رویا، کتب سابقہ پر محوی ہیں۔