اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 841 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 841

اتل ما اوحی ۲۱ ΔΙ العنكبوت ٢٩ الصَّلوةَ إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ قائم رکھ نماز کو۔کچھ شک نہیں کہ نماز روکتی ہے کھلی بے حیائی اور کاربد سے (یہود اور نصاریٰ وَالْمُنْكَرِ وَلَذِكْرُ اللهِ اَكْبَرُ وَاللهُ بننے سے ) اور اللہ کی یاد تو سب سے بڑی چیز يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ ہے اور اللہ جانتا ہے جو تم کیا کرتے ہو۔وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الكِتبِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ ۴۷۔اور اہل کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر اس طرح کہ وہ بہت ہی عمدہ و پسندیدہ طور پر ہومگر أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَقُولُوا ہاں جولوگ ان میں سے بے جا کام کریں کہو ہم امَنَّا بِالَّذِي أُنْزِلَ إِلَيْنَاوَأُنْزِلَ إِلَيْكُمْ نے مانا اس کلام کو جو ہماری طرف اتارا گیا اور وَالْهُنَا وَ الْهُكُمْ وَاحِدٌ وَ نَحْنُ لَهُ اس کلام کو جو تمہاری طرف اتارا گیا اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم تو اسی کے (بقیہ حاشیہ) اَقِمِ الصَّلوۃ۔نماز قائم کر یعنی یہودیت و نصرانیت سے ہٹ جا کیونکہ نماز روکتی ہے یہود ونصاریٰ بننے سے۔تمام اعضا علی الخصوص دل و زبان اور آنکھ اور کان اور تمام قوی ظاہری و باطنی کو خلاف مرضی حق سے روکا جائے اور ہر ایک کام حسب مرضی الہی کیا جائے۔اس کو صوفیوں کی اصطلاح میں ذکر حضوری یا ذکر کل یا ذ کرا کبر کہتے ہیں۔تمام بدیوں کی جڑ اور اصل الاصول مَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ اور ضَالِّين ہیں۔مَغْضُوبِ عَلَيْهِ وہ لوگ ہیں جو بے جاعداوت کرنے والے اور عالم بے عمل ہیں اور ضالین وہ جو بے جا محبت کرنے والے اور بے علم ہیں۔جس شخص میں ان دو صفات میں سے کوئی ہے وہ انہیں میں سے ہے تو نماز ان سے بچا کر صراط الْمُسْتَقِیم پر لگا دیتی ہے کیونکہ اس میں یہ دعا ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (الفاتحة :٢،٢)- وَلَذِكْرُ اللهِ اَكْبَر۔اور اللہ کی یاد تو سب سے بڑی چیز ہے۔نماز کو بڑے خشوع وخضوع کے ساتھ پڑھو۔دعا ئیں نماز میں بہت مانگو علی الخصوص اهْدِنَا الصِّرَاط سے لے کر ضالین تک یا نماز کے عوض میں اللہ جو تمہیں یاد کرے گا وہ اس نماز سے بہتر ہے۔آیت نمبر ۴۷۔اَحْسَنُ۔بہت ہی اچھی طرح سے مناظرہ اور بحث ہو۔عمدہ مجادلہ یہ ہے کہ ایسی بات کسی سے نہ کہو جس سے خود تمہارے مذہب پر بھی اعتراض پڑتا ہو۔إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا۔مگر جو لوگ ان میں سے بے جا کام کریں یعنی مرکز حق سے ہیں تو دفعیہ اور سختی کی ضرورت معلوم ہوتی ہے مگر جراحی کے رنگ میں۔