اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 840 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 840

اتل ما اوحی ۲۱ ۸۴۰ العنكبوت ٢٩ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُوْنَ ہوتا ہے۔کاش یہ لوگ جانتے۔اِنَّ اللهَ يَعْلَمُ مَا يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ ۴۳۔کچھ شک نہیں کہ اللہ جانتا ہے جس چیز کو یہ مِنْ شَيْءٍ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ لوگ پکارتے ہیں اللہ کے سوا وہ کچھ بھی ہو ( یعنی پیچ اور بے حقیقت ) اور اللہ ہی بڑا زبر دست حکمت والا ہے۔وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ ۚ وَمَا ۴۴۔اور یہ مثالیں ہم بیان فرماتے ہیں عام لوگوں کے لئے اور ان کو سمجھتے تو وہی ہیں جن کو يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَلِمُونَ علم ہے۔خَلَقَ اللهُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ ۴۵۔اللہ ہی نے پیدا کیا ہے آسمانوں کو اور زمین اِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِلْمُؤْمِنِينَ چ کو راست اور درست۔بے شک اس میں نشانی ہے ماننے والوں کے لئے۔أتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَبِ وَاَقِمِ ۴۶۔اے پیارے محمد ! تو پڑھ کر سنا دے جو وحی کی جاتی ہے تیری طرف کتاب میں سے لے اور ا یعنی محفوظ لکھی ہوئی میں سے۔(بقیہ حاشیہ ) وہ سوائے اس کے نہ دے سکتا کہ ہمارا اختیار۔پس دلائل تناسخ باطل ہو گئے اور سبب کی ضرورت نہ پڑی۔کوئی امیر، کوئی غریب کوئی کا نڑا، کوئی لنگڑ ا غرض کسی قسم کا ہو تحت مشیت اور اختیا را الہی ہے اور اسباب مخفی در مخفی بھی ہوتے ہیں اسی طرح اختیار کا مرجع بھی مختار کے علم میں ہوتا ہے۔آیت نمبر ۴۴ - العلِمُونَ سمجھتے وہ ہی ہیں جو عالم ہیں۔حضرت عﷺ نے فرمایا کہ معراج کی رات میں نے ایک جماعت کو دیکھا کہ ان کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جاتے ہیں۔میں نے جبرئیل سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا۔یہ آپ کی اُمت کے وہ علماء ہیں جو دوسروں کو نیک باتیں بتاتے ہیں اور خود نہیں کرتے۔اور ایک روایت میں ہے کہ کتاب اللہ کو پڑھتے ہیں اور عمل نہیں کرتے۔اصل میں علماء وہی ہیں جن کو خَشْيَةُ اللہ ہو اس آیت میں وہ علماء مراد ہیں جن میں خَشْيَةُ الله ہے جیسے کہ فرمایا کہ اِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموا (فاطر :۲۹) نہ وہ علماء جن کا اس حدیث میں ذکر ہے۔آیت نمبر ۴۶ - اتل۔پڑھ کر سنادے۔صرف پڑھنا ہی نہیں بلکہ عملی رنگ بھی ہو۔کیونکہ فَاسْتَقِمْ كَمَا أمِرْتَ (هود:۱۱۳) ارشاد ہے۔مِنَ الْكِتَبِ یعنی پڑھ کر سنا یعنی محفوظ لکھی ہوئی میں سے۔