اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 839 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 839

امن خلق ۲۰ ۸۳۹ العنكبوت ٢٩ * الصَّيْحَةُ وَمِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ میں ملا دیا اور بعض کو ہم نے ڈبا دیا اور اللہ تو ایسا الْأَرْضَ وَمِنْهُمْ مَّنْ أَغْرَقْنَا نہیں جو ان پر ظلم کرے لیکن وہ اپنی جانوں پر آپ ہی ظلم کرتے تھے۔وَمَا كَانَ اللهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ مَثَلُ الَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللهِ اَوْلِيَاءَ ۴۲ - ان لوگوں کی مثال جنہوں نے اللہ کے سوا کسی اور کو دلی دوست بنا رکھا ہے مکڑی کی سی كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ اتَّخَذَتْ بَيْتًا وَإِنَّ مثال ہے کہ اس نے ایک گھر بنالیا اور کچھ شک أوْهَنَ الْبُيُوتِ لَبَيْتُ الْعَنْكَبوتِ نہیں کہ تمام گھروں میں مکڑی کا گھر بڑا بودہ (بقیہ حاشیہ) الصَّيْحَةُ - آواز و مصیبت۔یہ بنی قریظہ کی تباہی کی پیشگوئی ہے الصَّيْحَةُ: نَوَائِبُ الدهرِ سخت حادثہ۔كَمَا قَالَ الشَّاعِرُ - صَاحَ الزَّمَانُ لِأَلِ بَرْمَكَ صَيْحَةً خَرُّوا لِصَيْحَتِهِ عَلَى الْأَذْقَانِ خَسَفْنَا۔خاک میں ملا دیا ہم نے۔یہ پیشگوئی بدر میں واقع ہوئی۔اغرقنا۔ڈبا دیا ہم نے۔فتح مکہ کے دن لوگ جدہ تک پہنچے پھر پتہ نہ لگا کہاں ڈوب گئے؟ اکثر کا خیال ہے کہ دریا میں جا پڑے۔آیت نمبر ۴۲۔لَبَيْتُ الْعَنْكَبُوتِ۔تمام گھروں میں مکڑی کا گھر بہت بودہ ہوتا ہے۔مکان کے فوائد یہ ہوتے ہیں خرد برد سے آرام، بارش سے حفاظت، چیزوں کی محفوظی اور ستر وغیرہ۔دنیا و مافیہا کے تعلقات جناب الہی کے تعلقات کے مقابلہ میں مکڑی کے گھر کی طرح بے حقیقت ہیں۔جن میں کسی قسم کا قیام حفاظت و آرام و محفوظی دستر وغیرہ نہیں۔صبح کچھ ہوتا ہے اور دو پہر کو کچھ ، پھر شام کو کچھ۔یہی نظیر ہے مذاہب باطلہ کی کہ نرے دعوے ہی دعوے ہیں کوئی دلیل نہیں۔ایک بات پر بھی مضبوط نہیں۔بحث میں کہیں سے کہیں نکل جاتے ہیں۔عنكبوت لفظ مرکب ہے عَنكَ بُيُوت سے جس کے معنی ہیں لازم ہے تجھ پر گھروں کا بنانا سنبھالنا۔اسی طرح مخالفین اسلام کے دلائل کا حال ہے۔چنانچہ ہمارے استاد و مرشد نور اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے ایک آریہ اور ترجیح بلا مرجح سے بحث کرنے والے سے فرمایا جب اس نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ ہم تناسخ کے متعلق بڑی لمبی بحث کرنا چاہتے ہیں۔آنجناب نے اپنے جیب سے دور و پیہ نکال دست مبارک پر رکھا اور اس کے سامنے ہاتھ بڑھا کر فرمایا کہ اس میں سے ایک لے لو۔وہ مسکرانے لگا۔اس کو جرات نہ ہوئی۔اگر وہ کہتا کہ میں نہیں اٹھا سکتا تو یہ بات غلط تھی اور اگر اٹھاتا تو ترجیح بلا مریخ اور کار بلا سبب پایا جاتا۔جس کا جواب