اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 835
امن خلق ۲۰ ۸۳۵ العنكبوت ٢٩ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوا بِايْتِ اللهِ وَلِقَابِةٍ ۲۴۔اور جنہوں نے انکار کیا اللہ کی آیتوں کا اور اس کے دیدار کا تو یہی لوگ ہیں جو اللہ کی أولَيْكَ يَسُوا مِنْ رَّحْمَتِي وَأُولَكَ لَهُمْ رحمت سے ناامید ہو گئے ہیں اور یہی لوگ ہیں عَذَاب اليمن جن کے لئے ٹیس دینے والا عذاب ہے۔فَمَا كَان جَوَابَ قَوْمِةٍ إِلَّا أَنْ ۲۵ - تو کچھ جواب نہ تھا اس کی قوم کا مگر یہی۔قَالُوا اقْتُلُوهُ اَوْ حَرِقُوْهُ فَانْجُهُ الله کہ وہ کہنے لگے کہ اس کو مار ڈالو یا جلا دوتو اللہ نے اس کو بچالیا آگ سے۔کچھ شک نہیں کہ اس مِنَ النَّارِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَتِ ۖ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ میں بڑی نشانیں ہیں ایمانداروں کے لئے۔وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِنْ دُونِ اللهِ أَوْثَانًا ۲۶۔اور ابراہیم نے کہا اس کے سوا نہیں کہ تم نے تو بنا رکھے ہیں اللہ کے سوا بت آپس کی محبت مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ کے سبب دنیا کی زندگی میں۔پھر قیامت کے الْقِيمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ من بعض کا بعض منکر ہو جائے گا اور لعنت بھیجے گا آیت نمبر ۲۴ - يَبِسُوا مِنْ رَّحْمَتِی۔جو خدا کی رحمت سے نا امید ہو گئے۔رحمة اللہ سے دیدار الہی و نشانات و آیات اللہ مراد ہیں۔شیعہ اس آیت کو پڑھیں اور لقاء الہی کا خیال رکھیں۔چونکہ اللہ تعالیٰ کی آیات اس دنیا میں معرفت پیدا کرنے کا ذریعہ ہیں جو کہ خدا تعالی کوعلمی طور پر ذہن میں ڈال دیتے اور علم الیقین کے مرتبہ پر انسان کو پہنچا دیتے ( ہیں )۔چونکہ علم الیقین تڑپ کو بڑھا دیتا ہے اور محبت کو بے قرار کر دیتا ہے۔اگر عین الیقین نہ ہو تو تو بہ، عاشق پر بہت ظلم ہے، اسی لئے فرمایا کہ جو میرے دیدار سے منکر ہوئے وہ میری رحمت سے مایوس ہوئے۔آیت نمبر ۲۵ - فَانْجُهُ اللهُ مِنَ النَّارِ۔تو اللہ نے اس کو بچالیا آگ میں سے۔بعض کہتے ہیں ابراہیم علیہ السلام آگ میں ڈالے گئے، بعض کہتے ہیں نہیں۔میرا ایمان ہے ڈالے گئے اور بچالئے گئے کیونکہ بعض علمی سلسلے اسباب کے خدائے علیم نے پوشیدہ رکھے ہیں۔وجہ یہ کہ علیم کا کوئی کام بلا اسباب نہیں ہوتا۔جاہل بلا اسباب کام کرتے ہیں اور اس کا نام اتفاق رکھتے ہیں۔فلاسفر کے کام بعض اسباب سے اور بعض حسب رائے ان کے اتفاق سے ہوتے ہیں۔کیونکہ علیم کے اسباب اس سے مخفی ہوتے ہیں اور خفی در خفی اسباب کا پتہ نہیں لگتا اسی وجہ سے اُس نے اس کا نام اتفاق رکھا ہے۔