اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 833
امن خلق ۲۰ ۸۳۳ العنكبوت ٢٩ فَاَخَذَهُمُ الطَّوْفَانُ وَهُمْ ظَلِمُونَ کو طوفان نے لیا اور وہ ظالم تھے۔فَانْجَيْنَهُ وَأَصْحَبَ السَّفِينَةِ ١٢۔تو ہم نے بچا لیا نوح کو اور کشتی والوں کو اس کشتی کو ایک نشان بنایا سب کے لئے۔وَجَعَلْنَهَا آيَةً لِلْعَلَمِيْنَ اور وَإِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا الله ۱۷۔اور ابراہیم کو بھیجا ہم نے ) جب اس نے ۱۷۔اپنی قوم سے کہا اللہ ہی کی عبادت کرو اور اسی وَاتَّقُوهُ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ کو سپر بناؤ۔یہ تمہارے لئے بہت ہی اچھا ہے جب تم جانتے ہو۔تَعْلَمُونَ إِنَّمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ أَوْثَانَّا ۱۸۔سوائے اس کے نہیں کہ تم تو عبادت کرتے وَتَخْلُقُوْنَ اِفْعًا إِنَّ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِنْ ہو اللہ کے سوا مورتوں کی اور جھوٹی باتیں بناتے ہو۔کچھ شک نہیں کہ جن کو تم پوجتے ہو اللہ کے سوا (بقیہ حاشیہ ) تک اپنے باپ دادا کے نام سے پکارے جاتے ہیں اور اُس خاندان کے ختم ہونے تک مورث اعلیٰ ہی کے نام سے منسوب رہتے ہیں پھر اور کوئی خاندان عزت و شان کا شروع ہو جاتا ہے تو اُدھر منسوب ہو جاتا ہے۔غرض عمر طبعی کوئی چیز نہیں۔توریت سفر پیدائش ۵ باب ۶ میں انبیاء کی عمروں کا تخمینہ لکھا ہے اور نوح کی شریعت نوسو پچاس برس رہی ایک خیال تو ظاہر یوں کا ہے کہ نوح على نبينا و علیه السلام شخص واحد نے ساڑھے نو سو برس اپنی قوم میں تبلیغ کا کام کیا۔دوسرا خیال یہ کہ نوح مورث اوّل کا نام ہے جس کی خلافت و شریعت کا بقا اتنی مدت ہوا اور اس پہلے قول کے خلاف ایک قرینہ سورۃ یسین کی آیت کا ہے وَمَنْ تُعَمَّرْهُ نُنَكِّسَهُ فِي الْخَلْقِ يس (19) اور اس آخری خیال کی تائید میں سورہ فرقان کی ایک آیت ہے وَقَوْمَ نُوحٍ لَمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنَهُمْ (الفرقان: ۳۸) جس میں نوح کی قوم کی طرف بہت سے رسولوں کا جھٹلا نا منسوب کیا گیا ہے جو ان ہی کے خاندان سے تھا۔تاریخ عجم نامہ خسروان کا مصنف بھی اسی کا قائل ہے۔یوروپین تو اس بات کے معتقد ہیں کہ مورث اعلیٰ کے نام سے ایک ہی شخص سالہا سال سے منسوب چلا آتا ہے۔آیت نمبر ۱۸ - تَخْلُقُوْنَ اِفگا۔جھوٹی باتیں بناتے ہو۔یہاں خلق کا لفظ علمی یا عملی منصوبے کے تجویز کرنے پر بولا گیا ہے یعنی لفظ خلق کے معنے اندازہ کرنا اور تجویز بتانا تو اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الدِّينِ (ال عمران : ۵۰) کے معنی کرنے میں بھی اس کا لحاظ رکھیں۔