اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 77
سيقول ٢ عمو نا (۲۲۷) LL البقرة ٢ رجوع کر لیں تو اللہ ڈھانپنے والا سچی کوشش کا بدلہ دینے والا ہے۔وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ الله ۲۲۸۔اور اگر انہوں نے ٹھان لی طلاق کی تو بے شک اللہ بڑا سننے والا بڑا جاننے والا ہے۔سَمِيعٌ عَلِيمٌ قُرُوءٍ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا وَالْمُطَلَّقْتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلُثَةَ ۲۲۹۔اور طلاق پائی ہوئی عورتیں اپنے کو رو کے رکھیں تین حیض یا تین طہر کے اندر نکاح نہ کریں) اور انہیں جائز نہیں کہ چھپا خَلَقَ اللهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ رکھیں اس کو جو پیدا کیا اللہ نے ان کے پیٹوں بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَبُعُولَتُهُنَّ اَحَقُّ میں سلم گروہ اللہ پر ایمان رکھتی ہیں اور پچھلے دن بِرَبِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا ۖ پر اور ان کے خاوند زیادہ حق دار ہیں اُن کو لوٹا لینے کے اس مدت میں سے اگر چاہیں اچھی طرح ط من وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ رکھنا۔اور عورتوں کا بھی حق ہے جیسا مردوں کا اُن وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللهُ عَزِيزٌ پرحق ہے دستور کے مطابق اور مردوں کو عورتوں پر فوقیت ہے ( تو عورتیں مردوں کو حقارت سے نہ دیکھیں ) اور اللہ زبر دست حکمت والا ہے۔حَكِيمن الطَّلَاقُ مَرَّتَنِ فَإِمْسَاكَ بِمَعْرُوفٍ أَوْ ۲۳۰۔طلاق دو ہی دفعہ ہے سے پھر یا تو عورت تَسْرِيحُ بِاِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ آن کو) روک رکھنا دستور کے موافق یا (اس کو ) رخصت کرنا ہے نیک سلوک کر کے اور تم کو تَأْخُذُوا مِمَّا أَتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ ناجائز ہے اُس مال میں سے کچھ بھی واپس لینا يخَافَا أَلَّا يُقِيِّمَا حُدُودَ اللهِ فَإِنْ جو تم عورتوں کو دے چکے ہومگر یہ کہ جورو خاوند خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللهِ فَلَا جُنَاحَ ڈریں کہ اللہ نے جو حدیں باندھی ہیں ان پر قائم نہ رہ سکیں گے پس اگر ایماندار ڈریں کہ لے اس کو یعنی حمل کو نہ چھپائیں۔ے ایک دم طلاق جائز نہیں۔تین طہر کے اندر