اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 831 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 831

ا من خلق ۲۰ ۸۳۱ العنكبوت ٢٩ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ - اور جولوگ ایمان لائے اور بھلے کام کئے تو۔لَتُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيَاتِهِمْ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ ضرور ہم ان سے دور کر دیں گے ان کی خطائیں اور ضرور دیں گے ہم ان کو بہتر سے بہتر بدلہ ان أَحْسَنَ الَّذِي كَانُوا يَعْمَلُونَ کاموں کا جو وہ کرتے تھے۔وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ ۹۔اور ہم نے وصیت کی ہے انسان کو اس کے جَاهَدُكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی اور اگر تیرے ماں باپ سخت کوشش کریں کہ تو شریک عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا إِلَى مَرْجِعُكُمْ ٹھہرا میرا ایسی چیز کو جس کا تجھے علم نہیں تو تو ان کی اطاعت نہ کرنا۔تم سب کو میری ہی طرف لوٹ کر فَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ آنا ہے تو میں تم کو بتا دوں گا جو تم کیا کرتے تھے۔وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ ۱۰۔اور جولوگ ایمان لائے اور بھلے کام کئے ان کو ہم ضرور داخل کریں گے سنوار والوں میں۔لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِي الصُّلِحِينَ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللهِ فَإِذَا۔اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم أُوذِيَ فِي اللهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ ایمان لائے اللہ پر پھر جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے اللہ کے معاملہ میں (یعنی حق بات میں ) تو اللهِ وَلَبِنْ جَاءَ نَصْرُ مِنْ رَّبِّكَ لَيَقُولُنَّ لوگوں کی ایذا دہی کو اللہ کے عذاب کے برابر آیت نمبر ۸ - لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ۔ہم ان سے دور کر دیں گے ان کی خطائیں۔ایمان کی وجہ سے پچھلے گناہ اور اعمال صالحہ کے بدلے آئندہ کے معاف ہو جاتے ہیں کیونکہ عادات بد اور افعال بد کے بجائے اعمال صالح قائم ہو جاتے ہیں اور استقامت نصیب ہو جاتی ہے۔آیت نمبر ۹۔مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ۔جس چیز کا تجھے علم نہیں اس میں دخل نہ دینا۔اس پر عمل نہ کرنا۔گو بزرگ سے بزرگ اسمی طور پر کسی کام کے کرنے کو کہے اور آسمانی کتاب اس کی گواہ نہ ہو تو اس کے کہنے پر عمل نہ کرنا کیونکہ عمل بلا علم جہل ہے اور جہل کو علم سمجھنا شرک ہے اور اپنے کو علم حاصل کرنے کے لئے علیم کا محتاج نہ سمجھنا بلکہ اپنے کو عالم سمجھنا شریک ہونے کی دلیل ہے کیونکہ جس قدر شریک بنائے جاتے ہیں ان کو کوئی حق نہیں کہ وہ شریک سمجھے جائیں۔نہ خدا کی ایسی قدرت نہ خلق نہ علم نہ تصرف تو پھر کیوں شریک بنائے جائیں یا کوئی جہالت سے بنیں۔