اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 823
امن خلق ۲۰ ۸۲۳ القصص ۲۸ كَمَنْ مَّتَعْنُهُ مَتَاعَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا ثُمَّ هُوَ ہے اور وہ اس کو پانے والا ہے ایسا شخص اس کے يَوْمَ الْقِيمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِيْنَ برابر ہو سکتا ہے جس کو ہم نے دنیا ہی کا فائدہ دیا پھر وہ انجام کار ان لوگوں میں سے ہو گا جو پکڑ بلائے جاتے ہیں۔وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ اَيْنَ شُرَكَاءِی ۶۳۔اور جس دن ان کو پکارے گا پکارنے والا۔فرمائے گا کہاں ہیں وہ میرے شریک جن کا تم الَّذِينَ كُنْتُمْ تَزْعُمُونَ ) زعم کیا کرتے تھے۔قَالَ الَّذِيْنَ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هَؤُلَاءِ ۶۴۔وہ بولیں گے جن پر عذاب ثابت ہو چکا۔الَّذِينَ أَغْوَيْنَا أَغْوَيْنُهُمْ كَمَا غَوَيْنَا اے ہمارے رب! یہی لوگ ہیں (استاد کہیں گے ) جن کو ہم نے بہکایا۔ہم نے ان کو بہکایا تَبَرانَا إِلَيْكَ مَا كَانُوا اِيَّانَا يَعْبُدُونَ کیوں کہ ہم بہکے ہوئے تھے ہم تیرے سامنے ان سے بیزار ہیں یہ لوگ تو ہم کو نہیں پوجتے تھے۔وَقِيلَ ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمُ ۶۵۔اور کہا جائے گا بلاؤ اپنے شریکوں کو تو وہ يَسْتَجِيبُوا لَهُمْ وَرَاوُا الْعَذَابَ لَوْ أَنَّهُمْ ان کو پکاریں گے تو وہ انہیں جواب بھی نہ دیں گے اور دیکھ لیں عذاب اور آرزو کریں گے کیا كَانُوا يَهْتَدُونَ اچھا ہوتا کہ وہ راہ راست پر ہوتے۔وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ مَاذَا أَجَبْتُمُ ۲۶۔اور ایک دن ان کو پکارے گا پکارنے والا الْمُرْسَلِينَ پھر فرمائے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا۔فَعَمِيَتْ عَلَيْهِمُ الْأَنْبَاءُ يَوْمَدٍ لَا يَشَاءَ لُوْنَ ۶۷۔تو اس دن ان پر اندھا دھن ہو جائیں کی خبریں سکے تو اس میں کچھ پوچھ پاچھ نہ کریں گے۔فَأَمَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَعَسی ۶۸۔اور جس نے توبہ کر لی اور سچے دل سے لے یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہم کو بہکایا ( شاگرد کہیں گے ) انہوں نے ہم کو بہکا یا جس طرح ہم بہکے۔اپنی خواہشات کو پوجتے تھے یہ مریدوں کا مقولہ ہوگا۔سے یعنی کوئی بات سوجھ نہ پڑے گی یعنی مطلق کسی سے کچھ جواب نہ بن پڑے گا۔