اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 814
امن خلق ۲۰ ۸۱۴ القصص ٢٨ ابْنَتَى هُتَيْنِ عَلَى أَنْ تَأْجُرَى ثَمَنِى حِجَجٍ میں سے ایک کو اس شرط پر دوں کہ تم آٹھ برس فَإِنْ أَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ ۚ وَمَا خدمت کرو میری پھر اگر تم پورا کر دو دس برس تو یہ تمہارا احسان ہے اور میں یہ نہیں چاہتا کہ تم أرِيدُ اَنْ اَشْقَ عَلَيْكَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ پرسخت محنت ڈالوں۔قریب مجھ کو تم انشاء اللہ پاؤ گے سنوار کرنے والوں میں۔اللهُ مِنَ الصَّلِحِينَ قَالَ ذلِكَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ ۲۹ - موسیٰ نے کہا اب یہ فیصلہ ہو چکا میرے اور قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَى وَاللهُ عَلَى مَا آپ کے درمیان۔تو ان دو مدتوں میں سے کوئی سی پوری کر دوں پھر مجھ پر زیادتی نہ ہو۔اور اللہ نے اس پر گواہ ہے جو ہم کہہ رہے ہیں۔نَقُولُ وَكِيلة فَلَمَّا قَضَى مُوسَى الْأَجَلَ وَسَارَ بِأَهْلِة ۳۰۔پس جب خدمت کر دی موسیٰ نے آٹھ أَنَسَ مِنْ جَانِبِ الصُّورِ نَارًا قَالَ برس اور اپنی بی بی کو لے کر چلا کوہ طور کی طرف تو * ایک آگ دیکھی۔اپنی بیوی سے کہا تم ٹھہرو میں (بقیہ حاشیہ) ثمنی حِجَج۔یعنی آٹھ برس تم میری خدمت کرنا بلکہ دو اور موسیٰ علیہ السلام کی مرضی پر رکھ کر بڑھا دیئے اور حضرت موسیٰ نے منظور فرما لیا۔آج کل اس آیت شریف کے بالکل خلاف ہو رہا ہے کہ ساس سُسرے کا معزز لفظ ہمارے عام بھائی ہندوستانیوں میں گالی کی جگہ بولا جاتا ہے۔آٹھ برس کے لفظ میں اشارہ رسول اللہ ﷺ کے پھر مکہ میں واپس آنے کا ہے۔یعقوب علیہ السلام نے اپنے خسر کی چودہ برس خدمت کی۔ہمارے ہادی اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے تعلقات کو غور سے دیکھو کہ ان کے لئے دوبار آپ نے سفر کیا۔خلاصہ یہ کہ انبیاء علیہم السلام کی سنت یہی ہے کہ وہ لڑکی والوں کے حقوق کی بڑی ہی نگہداشت کرتے ہیں اور داماد سے کچھ لینا جائز ہے۔الصّلِحِينَ - موسیٰ علیہ السلام کو بکری چرانے کی خدمت کیوں دی؟ استاد علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ موسیٰ شہزادگی کی حالت میں پہلے تھے ، جوش تھا اس کی اصلاح اس پیشہ سے ہوئی اور نبوت کی تیاری کے لئے اتنے برس رکھے گئے۔چونکہ چرانے والوں کو بڑا لٹھا رکھنا پڑتا ہے اور اس کے استعمال میں بڑی دانشمندی برتنی پڑتی ہے اس لئے صاحب عصا ہوۓ۔وَهَذَا هُوَ الْعَدْلُ وَالْحِكْمَةُ وَالْإِ صَلَاحُ اور ایک یہ بھی نتیجہ نکل آیا کہ انبیاء علیہم السلام کس طرح چھوٹے چھوٹے پیشے اختیار کر لیتے ہیں جس میں آج کل کے لوگ اپنی کسر شان سمجھتے ہیں۔چرواہوں میں بکری والا بہت ہی غریب سمجھا جاتا ہے۔