اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 813 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 813

امن خلق ۲۰ ۸۱۳ القصص ۲۸ رَبِّ إِنِّي لِمَا اَنْزَلْتَ إِلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ ہٹ کر سایہ کی طرف آیا پھر دعا کی اے میرے رب ! تو جو کچھ میری طرف نازل فرمائے میں اس کا بخوبی حاجت مند ہوں۔فَجَاءَتْهُ إِحْدُهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءِ ۲۶ تو ان دو عورتوں میں سے ایک عورت موسیٰ قَالَتْ إِنَّ أَبِى يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ کے پاس آئی جو شرماتی چلتی تھی کہنے لگی کہ میرے باپ آپ کو بلاتے ہیں تا کہ آپ کو اس مَا سَقَيْتَ لَنَا فَلَمَّا جَاءَهُ وَقَصَّ کی مزدوری دیں جو آپ نے ہمارے جانوروں عَلَيْهِ الْقَصَصَ قَالَ لَا تَخَفْ کو پانی پلایا۔پھر موسیٰ اس کے ( یعنی باپ کے ) پاس آئے اور اس سے سب قصہ بیان کیا۔لڑکی لا نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ کے باپ نے جواب دیا خوف نہ کرو تم ظالم لوگوں سے بچ آئے ہو۔قَالَتْ اِحْدُهُمَا يَابَتِ اسْتَأْجِرُهُ إِنَّ ۲۷ - ان دو عورتوں میں سے ایک بولی اے خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِقُ الْأَمِينُ میرے باپ! آپ ان کو رکھ لیجئے (ملازم کر لیجئے) کچھ شک نہیں کہ بہتر ملازم آپ رکھنا چاہیں تو وہی بہتر ہے جو زور آور اور امانت دار ہو۔قَالَ إِنِّي أُرِيدُ اَنْ اُنْكِحَكَ إِحْدَى ۲۸۔لڑکی کے باپ نے کہا (موسیٰ کو ) میں چاہتا ہوں کہ تمہارے نکاح میں اپنی ان دو بیٹیوں ے یعنی فرعون و قبطی کا قصہ۔(بقیہ حاشیہ) ربّ۔موسیٰ علیہ السلام نے دعا مانگی۔رسول اللہ بھی کسی بستی میں جاتے تو پہنچنے سے پہلے یہ دعا پڑھتے تھے۔اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَ مَا أَضْلَلْنَ وَ رَبَّ الْأَرْضِينَ السَّبْعِ وَ مَا أَقْلَلْنَ وَ رَبَّ الرِّيَاحِ وَ مَا ذَرَيْنَ وَ رَبَّ الشَّيَاطِينِ وَ مَا أَضْلَلْنَ فَإِنَّا نَسْتَلْكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ وَ خَيْرَ أَهْلِهَا وَ خَيْرَ مَا فِيْهَا وَأَعُوذُبِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ الْقَرْيَةِ وَ شَرِّ اَهْلِهَا وَ شَرِّ مَا فِيهَا اللَّهُمَّ بَارِكُ لَنَا فِيهَا (ثَلَكًا) اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا جَنَاهَا وَ اَعِذْنَا مِنْ وَبَاهَا اللَّهُمَّ حَبّيْنَا إِلى اَهْلِهَا وَ حَبِّبُ صَالِحِي أَهْلِهَا إِلَيْنَا - آیت نمبر ۲۶۔اِستحياء۔یہ شریف عورتوں کی پہچانت ہے کہ وہ نیچی نظر والی حیادار ہوتی ہیں۔آیت نمبر ۲۸ - اِنّى أُرِيدُ۔یعنی میں نکاح کر دوں یہ حضرت موسیٰ کے خسر کا قول ہے معلوم ہوتا ہے کہ لڑکی کا باپ اپنی لڑکی کا پیغام خود دے سکتا ہے۔