اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 811
امن خلق ۲۰ All القصص ٢٨ فَغَفَرَ لَهُ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ پھر اللہ نے اس کو ڈھانپ لیا۔بے شک وہ بڑا محافظت کرنے والا سچی کوشش کا بدلہ دینے والا ہے۔قَالَ رَبِّ بِمَا أَنْعَمْتَ عَلَيَّ فَلَنْ أَكُونَ ۱۸۔اے میرے رب ! قسم ہے اس انعام کی جو تُو نے مجھ پر فرمایا (اس کے شکریہ میں ) میں تجھ ظَهِيرًا لِلْمُجْرِمِينَ سے قطع تعلق کرنے والوں کا کبھی پشت پناہ نہیں بنوں گا۔فَأَصْبَحَ فِي الْمَدِينَةِ خَابِفَا يَتَرَ قَبُ فَإِذَا۔تو شہر میں موسی صبح کو اٹھے متردد چوکس سے تو ( دیکھا الَّذِي اسْتَنْصَرَهُ بِالْأَمْسِ يَسْتَصْرِخُه کہ یکا یک وہی شخص جس نے کل موسیٰ سے مدد مانگی تھی چلا چلا کر موسیٰ کو پکار رہا ہے۔موسیٰ نے قَالَ لَهُ مُوسَى إِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِينٌ ( مخالف) سے کہا تو بڑا ہی بے وقوف گمراہ ہے۔فَلَمَّا أَنْ أَرَادَ أَنْ تَبْطِشَ بِالَّذِي هُوَ عَدُوٌّ ۲۰۔پھر جب موسیٰ نے چاہا کہ اس کو پکڑے ( یعنی قبطی کو ) جو ان دونوں کا دشمن تھا (یعنی لَهُمَا قَالَ يَمُوْسَى أَتُرِيدُ اَنْ تَقْتُلَنِي كَمَا موسیٰ کا اور اسرائیلی کا) اس نے کہا اے موسیٰ ! قَتَلْتَ نَفْسًا بِالْأَمْسِ إِنْ تُرِيدُ إِلَّا آن کیا تو یہی چاہتا ہے کہ مجھ کو بھی مار ڈالے جیسے تَكُونَ جَبَّارًا فِي الْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ اَنْ كل مار چکا ہے ایک شخص کو۔تو یہی چاہتا ہے کہ جبر و فساد کرتا رہے ملک میں اور تو سنوار تَكُونَ مِنَ الْمُصْلِحِينَ می والوں میں نہیں ہونا چاہتا۔وَجَاءَ رَجُلٌ مِّنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ يَسْعَى ۲۱۔اور ایک شخص آیا شہر کے بہت دور کے ا یعنی بدکاروں کو ہمیشہ مارا ہی کروں گا۔یہ ان کی مضبوطی کی تمثیل ہے۔یعنی جو طرف سے خبریں لیتے رہے۔(بقیه حاشیه) فَغَفَرَ لَہ۔کیونکہ قتل قبطی شجاعت اور اخلاص الہی کے رنگ میں تھا۔یہی وجہ ہے دعا قبول ہونے کی۔الْغَفُورُ الرَّحِیم۔معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوشش نیک تھی جس پر رحیم کا لفظ اور غفور کا لفظ بولا گیا جس کے معنے محافظ کے ہیں۔آیت نمبر ۱۹۔لَغَوِيٌّ مُّبِينٌ ممکن ہے کہ فریادی کو جواب دیا ہو۔یا د عا علیہ کو کہا ہے۔آیت نمبر ۲۔رَجُلٌ۔آدمی کو چاہئے کہ جہاں رہے وہاں اپنے کوئی دوست رفیق بنا کر رہے۔أَقْصَا الْمَدِينَةِ - شاہی محلات کی طرف سے جو شہر کے ایک طرف تھا وہ آدمی دوڑتا ہوا آیا۔