اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 805
امن خلق ۲۰ ۸۰۵ النمل ٢٧ تُحِيطُوا بِهَا عِلْمًا أَمَّا ذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ حالا نکہ تم نے اس کا علم پورا پورا حاصل نہ کیا تھا تو تم کیا عمل کرتے تھے۔وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ بِمَا ظَلَمُوا فَهُمْ ۸۲۔اور ثابت ہو گئی ان پر پیشگوئی عذاب کی لے ان کے ظلم کی وجہ سے تو وہ بول ہی نہ سکیں گے۔لَا يَنْطِقُونَ اَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا الَّيْلَ لِيَسْكُنُوا فِيهِ ۸۷۔کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے بنائی وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَتٍ لِقَوْمٍ ہے رات تا کہ اس میں آرام پائیں اور دن کو يُؤْمِنُونَ روشن بنایا۔کچھ شک نہیں کہ اس میں لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو یقین رکھتے ہیں۔وَيَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ ۸۸۔اور جس دن پھونکا جائے گا صور تو گھبرا فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ جائیں گے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں مگر جس کو اللہ چاہے۔اور سب حاضر ہو جائیں گے شَاءَ اللَّهُ وَكُلٌّ أَتَوْهُ دُخِرِيْنَ اس کی حضوری میں عاجزی سے۔وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِيَ ۸۹۔اور دیکھتا ہے تو پہاڑوں کو لے جن کو تو خیال تَمُرُّ مَر السَّحَابِ صُنْعَ اللهِ الَّذِی اَتْقَنَ کرتا ہے کہ وہ اپنی جگہ جھے ہوئے ہیں اور وہ چلیں گے بادل کی طرح۔یہ اللہ کی کاریگری ہے كُلَّ شَيْءٍ إِنَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَفْعَلُونَ جس نے مضبوط بنایا ہر شے کو۔بے شک وہ اس سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ خَيْرٌ مِنْهَا وَهُمْ ٩٠۔جو کوئی نیکی لے کر آوے گا تو اس کو اس سے بہت بہتر ملے گا (یعنی بدلہ ) اور وہ اس دن مِنْ فَزَع يَوْمَنِ امِنُوْنَ کی گھبراہٹ سے امن میں ہوں گے۔ے یعنی بڑے آدمیوں کو۔یعنی فرد جرم لگ گیا۔آیت نمبر ۸۹ - مَر السَّحَاب۔اس سے پہاڑوں کی بھی گردش ثابت ہوتی ہے جو زمین کی وَتَدُ ہیں۔یہاں مراد قیصر و کسریٰ کی سلطنتیں بھی ہیں جو اہلِ اسلام کے مقابلہ میں ایسی اُڑیں گی جیسے ہوا بڑے بڑے بادلوں کو اڑا لے جاتی ہے۔