اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 804
امن خلق ۲۰ الدُّعَاءَ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ ۸۰۴ النمل ٢٧ اور نہ بہروں کو جب وہ منہ پھیر کے چلے جائیں۔وَمَا أَنْتَ بِهُدِی الْعُمْرِ عَنْ ضَللَتِهِمْ ۸۲ اور نہ تو راہ ہی دکھا سکتا ہے اندھوں کوان إِنْ تُسْمِعُ إِلَّا مَنْ يُؤْمِنُ بِايْتِنَا کی گمراہی سے تو تو اسی کو سناتا ہے جو یقین رکھتا فَهُمْ مُّسْلِمُونَ ہے ہماری آیتوں کا تو وہ ہی فدائی ایماندار ہیں۔وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمُ ۸۳۔اور جب آ پڑے گا ان پر وعدہ عذاب کالے لا دَابَّةَ مِنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ النَّاسَ تو نکالیں گے ہم ان کے لئے ایک جانور زمین سے جو اُن کو کاٹے گا۔زخمی کرے گا اس لئے کہ كَانُوا بِايْتِنَا لَا يُوقِنُوْنَ لوگ ہماری آیتوں کا یقین نہیں کرتے تھے۔وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ فَوْجًا مِمَّنْ ۸۴۔اور جس دن ہم جمع کریں گے ایک امت تُكَذِّبُ بِايْتِنَا فَهُمْ يُوزَعُوْنَ ) میں سے اس گروہ کو جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو پھر ترتیب سے کھڑے کئے جائیں گے۔حَتَّى إِذَا جَاءُ وَقَالَ اكَذَّبْتُمْ بِايْتِي وَلَمْ ۸۵۔یہاں تک کہ جب وہ حاضر ہوں گے تو اللہ فرمائے گا کیا تم نے جھوٹ سمجھا ہماری آیتوں کو لے ان پر فرد جرم لگ جائے گا۔آیت نمبر ۸۳ - دَابَّةُ الْأَرْضِ۔اس جانور کی شکل اور مقام خروج اور وقت خروج میں بڑا اختلاف ہے۔کوئی تو کہتا ہے کہ مکہ کے محلہ جیاد سے نکلے گا، کوئی جھاڑی سے بتاتا ہے، کوئی عام مکہ سے، کوئی مدینہ شریف سے، کوئی یمن سے شکل بھی بہت ہی عجیب۔گردن اونٹ کی ، منہ آدمی کا، داڑھی بھی ہو گی ، دم گائے کی۔ابن جریر کہتے ہیں سر گائے کا ، آنکھ سو ر کی ، کان ہاتھی کے ، سینگ بارہ سینگے کے، سینہ شیر کا ، رنگ چیتے کا، سرین بیل کے، دم بکری کی ، پاؤں اونٹ کے اور ہر جوڑ میں فاصلہ بارہ گز کا ، ہاتھ میں موسیٰ کا عصا، انگلی میں سلیمان کی انگوٹھی ہو گی ، کسی کو جنتی ہونے کا فتوی دے گا اور کسی کو جہنمی (تفسیر معالم التنزيل (البغوی) زیر سورۃ نمل آیت ۸۳)، وہب کہتے ہیں کہ چہرہ سب آدمی کا ہے باقی جسم پرندہ کا۔کسی نے حضرت علی مرتضیٰ كَرَّمَ اللهُ وجُهَهُ کو بھی دَابَةُ الأَرْض بتایا ہے۔مختلف اس کے مقام خروج اور اس کے اشکال بیان کئے ہیں جس سے اگر علی الظاہر محول کریں تو ایسے اختلافات کا اجتماع ناممکن ہے۔سب باتوں کا فیصلہ جو کہ حضرت امام ہمام اسیح الموعود نے فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ دَابَةُ الاَرض سے مراد طاعون ہے وہ اہل اللہ کو مختلف اشکال میں دکھائی دیتی ہے جیسا کہ حضرت کو ہاتھی کی شکل میں جس کا چہرہ انسان کا ہے طاعون دکھائی دی۔