اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 803 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 803

امن خلق ۲۰ وَمَا يُعْلِنُونَ ۸۰۳ النمل ٢٧ جانتا ہے جو ان کے سینوں میں ہے اور جو ظاہر ہے۔وَمَا مِنْ غَابِبَةِ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِلَّا ٦ے۔اور کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں آسمانوں اور في كتب مبين زمین میں مگر وہ سب صریح حفاظت میں ہے۔إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَقُصُّ عَلَى بَنِي إِسْرَاءِيلَ۔۔کچھ شک نہیں کہ یہ قرآن شریف بنی اسرائیل اَكْثَرَ الَّذِي هُمْ فِيْهِ يَخْتَلِفُونَ کے حالات بہت بیان کرتا ہے (یعنی ان پر حکم ہے ) اکثر ان باتوں کو جن میں وہ جھگڑا کرتے ہیں۔وَإِنَّهُ لَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ۔۷۸۔بے شک وہ قرآن ہدایت ہے اور رحمت ہے ایمانداروں کے لئے۔اِنَّ رَبَّكَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ بِحُكْمِهِ ۚ وَهُوَ ۹۔کچھ شک نہیں کہ تیرا رب فیصلہ فرمائے گا ان کے آپس میں اپنے حکم سے آپ ہی اور وہ الْعَزِيزُ الْعَلِيمُ بڑا زبر دست اور بہت جاننے والا ہے۔فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ إِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ ۸۰ تو تم تو کل کرو اللہ پر بے شک تو تو صریح۔تو حق پر ہی ہے۔الْمُبِينِ إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْلَى وَلَا تُسْمِعُ القُم ١۔بے شک تو تو نہیں سنا سکتا آواز مردوں کولے لے اللہ نے کافروں کو مردہ کہا۔آیت نمبر ۷۷ - يَقُصُّ عَلَى بَنِي إِسْرَاءِيلَ - یہ قرآن شریف بنی اسرائیل کے حالات بہت بیان کرتا ہے۔سب سے بھاری اختلاف مسیح کی آمد کا تھا قرآن شریف نے اسے صاف کر دیا۔دوسرا مسئلہ نبوت اور الہام کا تھا کہ وہ بنی اسرائیل میں محدود ہے یا مثلاً عیسی علیہ السلام کی نسبت جو یہود اور عیسائیوں میں جھگڑے ہیں ایک گروہ اس کو خدا دوسرا گر وہ اس کو لعنتی ، ایک گروہ اس کو زندہ برسما اور دوسرا مُردہ بر صلیب وغیرہ وغیرہ بتا تا ہے اور قرآن شریف ان امور کا قطعی فیصلہ صحیح دلائل کے ساتھ دیتا ہے کہ وہ صلیب کے بعد ۸۷ سال زندہ رہے اور پھر اپنی موت سے حسب وعدہ الہی وفات پائی اور شہر کشمیر محلہ خان یار میں مدفون ہیں۔آیت نمبر ۸۱ - لَا تُسْمِعُ الموٹی۔یعنی جو لوگ مردے ہو گئے ہیں۔انہیں تو سنا نہیں سکتا اور نہ پیٹھ پھرے ہوئے بہروں کو جب وہ فاجر و فاسق ہو جاتے ہیں اور اُن پر فرد قرار داد جرم لگ جاتی ہے نہیں سنا سکتا یعنی وہ گناہ اور بدی سے باز نہیں آسکتے اور کاملیت کے حکم میں ہیں۔