اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 74
سيقول ٢ ۷۴ البقرة ٢ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَأُوليك آخرت (دونوں) میں اکارت گیا اور یہی لوگ ہیں こ أصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ جن کا انجام ایک آگ ہے جس کی جلن میں وہ مدتوں جلتے بھنتے رہیں گے۔اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا ۲۱۹۔البتہ جو لوگ ایمان لائے اور اللہ کی راہ میں وطن چھوڑے یا گناہ سے باز آ گئے اور جہاد وَجْهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَبِكَ يَرْجُونَ کئے بائیک کوشش ( ہر قسم کی کئے ) تو یہی لوگ رَحْمَتَ اللهِ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ فضل الہی کے امید وار ہیں اور اللہ کمزوریوں کو بڑا ڈھانپنے والا سچی کوشش کا بدلہ دینے والا ہے۔يَسْلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ ۲۲۰۔(اے پیغمبر!) تجھ سے پوچھتے ہیں شراب ، اور جوئے کی بابت، تو کہہ دے اِن دونوں میں فِيْهِمَا إِثْمُ كَبِيرُ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ * بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لئے ( کچھ تھوڑے وَإِثْمُهُمَا اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا سے فائدے، اور ان دونوں کا گناہ بہت بڑھ سے) وَيَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ کر ہے اُن کے نفع سے۔اور تجھ سے پوچھتے ہیں کس قدر خرچ کریں؟ جواب دے ضرورت سے كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَتِ لَعَلَّكُمْ جس قدر زائد ہو یا جس کے خرچ کرنے سے مال میں نقصان زیادہ نہ معلوم ہو اسی طرح کھول کھول کر بیان کرتا ہے اللہ تم سے احکام تا کہ تم فکر کرو۔تَفَكَّرُونَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ ۲۲۱ - دنیا اور آخرت کے معاملہ میں اور تجھ سے الْيَتَى قُلْ إِصْلَاحُ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ پوچھتے ہیں تیموں کے بارے میں تو جواب دے ان کی بہتری کے کام کرنا بہتر ہے، اگر تم ان سے آیت نمبر ۲۲۰۔عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ ـ ربط یہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ جنگ میں شراب اور جوئے کا رواج چلا آ رہا ہے ہمیں کیا حکم ہے؟ پھر پوچھتے ہیں مَا ذَا يُنْفِقُونَ اور خرچ جنگ کہاں سے لائیں کیونکہ جوئے سے وہ ادا ہوتا تھا۔آیت نمبر ۲۲۱ - يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْيَتى - چونکہ جہاد سیفی کا نتیجہ یتامی بھی ہے اس لئے اس کا سوال بھی ہوا۔