اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 795 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 795

وقال الذين ۱۹ ۷۹۵ النمل ٢٧ فَلَمَّا جَاءَ سُلَيْمَنَ قَالَ أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ ۳۷۔تو جب ایچی سلیمان کے پاس آیا تو فَمَا النِ اللَّهُ خَيْرٌ مِمَّا أَشْكُم بَلْ أَنْتُمْ سلیمان نے کہا کیا تم میری مدد مال سے کرتے ہوسو اللہ نے جو مجھے دے رکھا ہے وہ اس سے آیت نمبر ۳۷۔قال۔اس کا فاعل سلیمان ہے۔سلیمان علیہ السلام کے متعلق یہ باتیں یاد رکھنے کے قابل ہیں۔(۱) کہ ہر ایک قوم میں جب کوئی بڑا آدمی معزز گزرتا ہے تو اس کی قوم بھی معزز سمجھی جاتی ہے مگر جب قوم کی بداعمالی کثرت سے مشہور ہو جاتی ہے تو اس کی عظمت گھٹ جاتی ہے اور طعن و تشنیع ان پر شروع ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ اس قوم کے اچھے اچھے لوگ بھی بُرائی میں شریک کئے جاتے ہیں اور ان کے بزرگوں کا بھی پاس نہیں کیا جاتا۔(۲) یہودیوں کی سلطنت جب جاتی رہی اس وقت ان کی بارہ تو میں تھیں۔(۳) جب قرآن شریف میں بنی اسرائیل کا لفظ آتا ہے تو وہ سب تو میں مراد ہوتی ہیں۔(۴) اور جب یہود کا لفظ آتا ہے تو وہاں یہود کی نسل مراد ہوتی ہے جن میں سے حضرت سلیمان تھے۔(۵) اس خاندان میں رھب عام ایک شخص گزرا ہے جس کی مخالفت میں ایسے ہی عام مطاعن پیش ہوئے جیسے شیعہ و خوارج کے مطاعن ہیں۔آجکل عام بنی اسرائیل اور نصاری حضرت سلیمان علیہ السلام کو کافر سمجھتے ہیں نَعُوذُ بِالله مِنْهَا جيسا وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَنُ میں اس کی طرف اشارہ بھی ہے۔اس کے کفر کی جڑ یہ بتلاتے ہیں کہ بلقیس بت پرست تھی ( قرآن نے اس کی بھی نفی کی اور بتلایا کہ وہ مسلمان ہو گئی تھی )۔وہ ان کے گھر میں آگئی تھی اس لئے سلیمان بھی بت پرست ہو گئے تھے۔(4) ہمارے کم سمجھ علماء میں بھی اس کا اثر آیا ہے کہ وہ اکثر انبیاء علی الخصوص داؤد علیہ السلام پر بھی بنی اسرائیل کے منہ کا سنا ہوا اعتراض لگاتے ہیں۔حالانکہ اور یا کی بیوی کا قصہ سراسر جھوٹ ہے نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْكِذب - حضرت علی رضی اللہ عنہ نے منادی کروا دی تھی کہ اگر اس قصہ کو کوئی بیان کرے گا تو اس کو ۱۶۰ درے لگاؤں گا یعنی قذف والے سے بڑھا دیا کہ اُستی درے ہیں۔(۷) حضرت سلیمان نے بلقیس کے لئے جو شیش محل بنوایا تھا جس کے نیچے ندی بہتی تھی۔اس میں یہ راز تھا کہ سورج و تاروں کو روشنی کے سبب پوجتے ہو اور اس کے روشن کنندہ کا حال نہیں جانتے۔جیسے شیشے نے ندی کا حال مشتبہ کر دیا ہے۔(۸) سلیمان کا لفظ بھی اسلام سے نکلا ہوا ہے۔عرش بلقیس میں بھی بڑے بڑے مباحثے ہوئے۔مفسر علامہ حکیم الامت حضرت مولوی نورالدین مَدَّ فَيْضُهُ کا قیاس ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے وہ تخت خود ہی بنوایا ہے۔عرشها میں اضافت أرني ملابست سے ہے جیسے إِذَا كَوْكَبُ الْخَرُقَاءُ لَاحَ بِسَحْرَةٍ اور قول الشاعر ވ إِذَا قُلْتُ قَدْنِي قَالَ بِاللَّهِ حِلْفَةٌ لَتُغْنِيَ عَنِّى ذَا إِنَاءِ كَ أَجْمَعَا اور كَأَنَّهُ هُوَ اِس پر دال ہے۔(۹) طرف کے چھ معنی ہیں (۱) وہ لوگ جو کسی کے ملک میں مالیہ وصول کرنے کو بھیجے گئے (۲) یمن (۳) اطراف یمن (۴) منتہائے بصر (۵) نشا نہائے مطلب (۶) بہت جلد۔