اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 791 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 791

وقال الذين ١٩ ۷۹۱ النمل ٢٧ وَقَالَا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي فَضَّلَنَا عَلَى ان دونوں نے کہا اللہ کا شکر ہے جس نے ہم کو بزرگی دی بہت سے لوگوں پر، اپنے ایماندار كَثِيرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ بندوں سے۔وَوَرِثَ سُلَيْمَنُ دَاوُدَ وَقَالَ يَأَيُّهَا النَّاسُ ۱۷۔اور داؤد کا جانشین ہوا سلیمان اور کہا لوگو ہم کو سکھائی گئی ہے پرندوں کی بولی اور ہم عُلِمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَ أُوتِيْنَا مِنْ كُلِّ کو ہر ایک چیز میں سے دیا گیا ہے۔بے شک شَيْءٍ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ یہی تو کھلا کھلا فضل و کمال ہے۔وَحُشِرَ لِسُلَيْمَن جُنُودُهُ مِنَ الْجِنِّ ۱۸۔اور سلیمان کے لئے جمع کئے گئے اس کے لشکر۔بڑے آدمی اور غریب آدمی یعنی جن و وَالْإِنْسِ وَالطَّيْرِ فَهُمْ يُوزَعُونَ انس اور ہر قسم کے سوار و پرندے تو وہ بڑی ترتیب سے کھڑے کئے جاتے تھے۔حَتَّى إِذَا أَتَوْا عَلَى وَادِ النَّمْلِ قَالَتْ ۱۹۔یہاں تک کہ جب پہنچے وادی نمل میں تو آیت نمبر ۱۷ - مَنْطِقَ الطَّيْرِ۔یہ ایک علم ہے جس کو عبرانی زبان میں وَ بَرْهَا عَرَف اور یونانی میں ارنی تو لو جیا اور ہندی میں بسنت راج کی وڈیا، عربی میں مَنطِقُ الطَّيْرِ کہتے ہیں یعنی جانوروں کی بولیوں اور رنگوں اور اڑنے اور بیٹھنے وغیرہ وغیرہ امور سے عجیب عجیب علمی استدلال کرتے ہیں حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ سب امور کشفی تھے اور ہو سکتے ہیں جیسے امور برزخیہ کا حال ہے اور طیر ہر قسم کے سوار کو بھی کہتے ہیں اور عام طور پر کلام عرب میں طائر تیز گھوڑے کے سوار کو کہتے ہیں تو سلیمان علیہ السلام کا مطلب یہ ہوگا کہ رسالہ کے قواعد کی بولیاں میں جانتا ہوں۔مَنْطِقُ الطَّيْرِ تین قسم کے ہیں۔ایک تو انبیا ء کو۔دوسرے حکماء کو۔تیسرے تجربہ کاروں کو۔حضرت سلیمان کو تینوں حاصل تھے۔مِنْ كُلِّ شَیءٍ۔یہ گل بطور محاورہ کے قدر ضروریات پر بولا جاتا ہے۔مسافر بولتا ہے سب سامان لے لیا۔اسی طرح ذوالقرنین کے حالات میں یا درکھنا۔آیت نمبر ۱۹۔وَادِ النَّمْلِ۔طائف کے قریب ایک وادی ہے جیسا مَعَالِمُ التَّنْزِيل اور قَامُوس کی لغت برقع میں ہے اور تاریخ ۲ کے باب ۸ تک بائبل میں ہے کہ طائف کے پاس ایک وادی ہے جہاں ذرات طلا ملتے ہیں اور اس کے پہننے والوں کا نام نملہ ہے۔ہمارے ملک میں بھی اُن کو کیرے اور ہندوستان میں نیارے اور دھول دھوے کہتے ہیں اور دکن میں ملتانی کہلاتے ہیں۔