اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 789 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 789

وقال الذين ١٩ ۷۸۹ النمل ٢٧ وَ إِنَّكَ تَتْلَقَّى الْقُرْآنَ مِنْ لَّدُنْ۔اور البتہ تجھ کو کھایا جاتا ہے قرآن ایسے کے ے۔حَكِيمٍ عَلِيمٍ الثالثة پاس سے جس کے کام بڑے مضبوط ہیں جس نے علم میں غلطی نہیں۔۔إِذْ قَالَ مُوسَى لِأَهْلِه اِنّى أَنَستُ نَارًا - جب موسیٰ نے کہا اپنے گھر والوں میں سے کہ میں نے آگ دیکھی ہے۔میں جلدی سے سَاتِيْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ أَوْ أُتِيْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ لاؤں گا تمہارے پاس وہاں کی کچھ خبر یا لاؤں گا سلگتا ہوا انگارا تمہارے لئے تا کہ تم تا پو۔فَلَمَّا جَاءَهَا نُودِيَ أَنْ يُوْرِكَ مَنْ ٩ جب وہ اس کے پاس پہنچا تو جناب الہی کی طرف سے آواز دی گئی کہ برکت دیا گیا ہے وہ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا وَ سُبْحَنَ اللَّهِ شخص جو تلاش نار میں ہے اور جو اس کے آس رَبِّ الْعَلَمِينَ پاس ہے اور اللہ پاک ذات ہے، سب جہانوں کو آہستہ آہستہ کمال کی طرف پہنچانے والا۔آیت نمبر ۸۔نارا۔اگر یہ آگ موسیٰ علیہ السلام نے ظاہری آنکھوں سے دیکھی ہوتی تو سائنس اور حکمت کے طور پر سمجھا جاتا کہ یہ فاسفورس کی روشنی ہے جو رات کو کرم شب تاب یا ہڈیوں یا بعض نباتات ومعد نیات میں آگ کی طرح دکھا کرتی ہے کیونکہ خدا کا اصلی نور تو جسمانی آنکھوں سے نہیں دکھا کرتا مگر موسیٰ علیہ السلام کے ارشاد میں جو اجتہادی طور پر کشفی حالت کو ظاہری حالت پر قیاس کر کے آگ یا جز و آگ لانے کا بیان معلوم ہوتا ہے مگر مقام تجلّی کے قریب پہنچ کر آگ کا نہ ملنا اور وہ ندا ہونا کہ آنْ بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا کشفی نور پر دلالت کرتا ہے جو اقسام وحی میں سے ہے کہ کسی چیز میں سے آواز آتی ہے جیسے یہاں آگ سے آواز آئی۔آیت نمبر 9 - اَن بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّارِ۔موسیٰ کو آگ دکھلا کر بلایا پھر اسے عصا دکھلایا۔اس سے دو مقصد ہیں۔آگ کا مقصد یہ ہے کہ تمہاری قوم بسبب ذلت اور غربت کے مہمانی کی آگ جلانے سے محروم ہے۔ان کے ہاں تیرے وجود کی برکت سے یہ آگ جلے گی۔وہ مرجع خلائق ہوں گے۔ان کے ہاں ضیافتیں جاری ہوں گی۔کما قال الشاعر إِنِّي حَمَدْتُ بَنِي شَيْبَانَ إِذْ حَمَدَتْ نِيْرَانُ قَوْمِي وَفِيْهِمْ شَبَّةِ النَّارُ یعنی شاعر کی قوم کومہمانی دینے کی طاقت نہ رہی اور بنی شیبان کو یہ بات حاصل ہوئی۔عصا سے یہ مقصد تھا کہ تم با جلال ہو گے۔تمہاری قوم کو سلطنت دی جائے گی۔