اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 788
وقال الذين ۱۹ ۷۸۸ النمل ٢٧ سُوْرَةُ النَّمْلِ مَكَّيَّةٌ وَّ هِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ اَرْبَعٌ وَتِسْعُونَ آيَةً وَّ سَبْعَةُ رُكُوعَاتٍ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔ہم سورۃ نمل کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے۔طس تِلْكَ أَيْتُ الْقُرْآنِ وَكِتَابِ ۲- طور سینا کے متعلق ایک بات بتلا کر ( کہتے ہیں ) یہ آیتیں ہیں قرآن کی اور حق و ناحق میں مُّبِينن هُدًى وَبُشْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ ) فیصلہ کرنے والی کتاب کی۔۔ہدایت و خوش خبری ہے ایمانداروں کے لئے۔الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكُوةَ ۴ جو درست رکھتے ہیں نماز اور زکوۃ دیتے وَهُمْ بِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ ہیں اور وہ آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں۔اِنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْآخِرَةِ زَيَّنَّا لَهُمْ - کچھ شک نہیں کہ جو لوگ یقین نہیں رکھتے أَعْمَالَهُمْ فَهُمْ يَعْمَهُونَ آخرت کا ہم نے ان کے سامنے نیک اعمال بڑی خوشنما شکل میں پیش کئے مگر انہوں نے اپنے آپ کو اندھا بنا رکھا ہے۔أوليكَ الَّذِينَ لَهُمْ سُوءُ الْعَذَابِ وَهُمْ - یہی لوگ ہیں جن کے لئے بُرا عذاب ہے۔في الْآخِرَةِ هُمُ الْأَخْسَرُونَ اور یہی آخرت میں ٹوٹا پانے والے ہیں۔اے ایمان دار کون ہوتے ہیں جو تعظیم حکم الہی کے لئے۔ے یعنی مرے بعد جی اٹھنے کا۔آیت نمبر ۲۔طس - ط سے لطیف اور اس سے سمیع یا ط س سے طور سینا۔كِتَابٍ مُّبِینٍ۔یعنی وہ رسول ہے جس کا ذکر طور سینا پر کیا گیا تھا کہ اس کے منہ میں کلام ڈالا جائے گا تو یہ قرآن اسی روشن کتاب کی آیتیں ہیں جو اس کے منہ میں ڈالی گئیں۔آیت نمبر ۴ - يُقِيمُونَ الصَّلوةَ - نماز کو حضورِ الہی میں حاجات کے عرض کرنے کا موقع سمجھے۔سستی نہ کرے علی الخصوص صبح و عشاء کی نماز کیونکہ منافقوں کی شناخت کا ذریعہ بھی یہی نماز ہیں۔آیت نمبر ۵۔يَعْمَهُونَ۔یعنی جیسے ایک اندھا خوشنما چیز اور خوبصورت خدو خال سے لذت حاصل نہیں کر سکتا اسی طرح پر بے ایمان بھی اندھے ہوتے ہیں۔