اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 787
وقال الذين ۱۹ ZAZ الشعراء ٢٦ هَلْ أَتَيْتُكُمْ عَلَى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيْطِيْنُ ۲۲۲۔میں تم کو بتادوں کن پر شیاطین اُترا تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَّادٍ أَثِيْون کرتے ہیں۔۲۲۳۔وہ تو ہر ایک جھوٹے ، بڑے گنہ گار پر اُترتے ہیں۔تُلْقُوْنَ السَّمْعَ وَاَكْثَرُهُمْ كَذِبُونَ ۲۲۴۔سنی سنائی ہوئی باتوں کو لا ملاتے ہیں اور ان میں سے بہت سے جھوٹے ہی ہوتے ہیں۔وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوَنَ ۲۲۵۔اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ ہی کیا کرتے ہیں۔الَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُوْنَ ۲۲۶۔کیا تو نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر ایک جنگل میں بھٹکتے پھرا کرتے ہیں۔وَأَنَّهُمْ يَقُوْلُوْنَ مَا لَا يَفْعَلُوْنَ ۲۲۷۔اور وہ کہا کرتے ہیں جو خود نہیں کیا کرتے۔إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ ۲۲۸ مگر وہ شاعر جنہوں نے سچے دل سے اللہ وَذَكَرُوا اللهَ كَثِيرًا وَ انْتَصَرُوا مِنْ بَعْدِ کو مانا اور بھلے کام کئے اور کثرت سے اللہ ہی کو یاد کیا اور بدلہ لیا بعد اس کے کہ ان پر ظلم کیا پر مَا ظُلِمُوا وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا گیا۔اور قریب ہی جان لیں گے ظالم کہ کس گردش میں الٹ پلٹ ہوں گے۔أَنَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ ے یعنی کثرت سے حمد و مناجات اور دعائیں نظم کیں۔آیت نمبر ۲۲۵ - وَالشُّعَرَآء۔کیونکہ شعراء اعلیٰ درجہ کی تہذیب اور پرہیز گاری بتاتے ہیں مگر اکثر اس کے خود عامل نہیں ہوتے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شعر بھی ایک کلام ہے جس کا مضمون اچھا ہو وہ اچھا اور جس کا مضمون بُرا ہو وہ بُرا ہے۔رسول اللہ کے مداح شاعروں میں حسان تھے جن کی نسبت آپ نے فرمایا کہ خدائے تعالیٰ نے جبرئیل کو حستان کی مدد کے لئے حکم فرمایا ہے اور نیز فرمایا مومن تلوار سے بھی جہاد کرتے ہیں اور زبان سے بھی۔قسم ہے اس پاک ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے تمہارے شعروں سے کافروں کو صدمہ پہنچتا ہے جیسا کہ تیر کا صدمہ۔مشکوۃ۔إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا - گروہ شاعر جنہوں نے خدا کو مانا اور بھلے کام کئے، کثرت سے حمد و مناجات و دعا ئیں اور ذب کفار و فجار کیا جیسے حستان و عبداللہ بن رواحہ اور مسیح موعود رضی اللہ تعالی عنہم وغیرہ نے۔تو یہ متقی ہیں ان عادی شعراء سے جن کی صفت ہے فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ۔آیت نمبر ۲۲۸۔و انتصر وا۔یعنی واقعات صحیح نظم کر کے جھوٹ کا مقابلہ کیا چی نعت و منقبت لکھی۔يَنْقَلِبُونَ۔یعنی جھوٹ کہاں تک مجھے گی حق کا آفتاب تمام عالم میں اُجالا کر دے گا۔