اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 786
وقال الذين ۱۹ ZAY الشعراء ٢٦ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُوْنَ ۲۱۳۔وہ تو سننے سے دور رکھے گئے ہیں۔فَلَا تَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَهَا أَخَرَ فَتَكُونَ ۲۱۴۔تو اے مخاطب! تو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود بنا کر نہ پکارنا نہیں تو تو عذاب والوں میں سے ہو جاوے گا۔مِنَ الْمُعَذِّبِينَ وَانْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ ۲۱۵۔اور تو اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرا دے۔وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ ۲۱۶۔اور تو اپنے بازو جھکا دے ان ایمانداروں مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ® کے لئے جو تیرے پیچھے ہوئے ہیں۔فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِئَ مِّمَّا ۲۱۷۔پھر اگر وہ تیرا کہنا نہ مانیں تو تو کہہ دے کہ میں اس سے تو بیزار ہوں جو تم بُرے تَعْمَلُونَ ® کام کرتے ہوں۔وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ ۲۱۸۔اور تو بھروسہ کر بڑے زبر دست رحیم پر۔الَّذِي يَرْبكَ حِينَ تَقُوْمُ ۲۱۹۔جو تجھ کو دیکھتا ہے تیرے اٹھتے وقت۔وَتَقَلُّبَكَ فِي السُّجِدِينَ۔۲۲۰۔اور سجدہ کرنے والوں میں تیرے حرکات سکنات۔إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ ۲۲۱۔کچھ شک نہیں کہ وہ بڑا سننے والا بڑا جاننے والا ہے۔آیت نمبر ۲۱۳ - لَمَعْزُولُونَ۔سننے سے معزول ہیں یعنی قرآنی آواز نہیں سن سکتے۔اس سے دور دور بھاگتے ہیں۔سچ کہا حافظ نے مصرع دیو بگریزد ازاں قوم که قرآن خوانند آیت نمبر ۲۱۵ - اَلْأَقْرَبِينَ۔اور قریبی ناتے والوں کو ڈرائے۔بخاری نے ابو ہریرہ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اے قریش، اے عبد مناف اے عباس بن عبدالمطلب ،اے پھوپھی صفیہ ،اے میری بیٹی فاطمہ تم اپنا بندو بست آپ کرو میں تمہارے اوپر سے خدا کا عذاب دور نہ کر سکوں گا۔خدا کے مقابلہ میں تمہارے کچھ کام نہ آؤں گا۔دیکھو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شفاعت قبول قول و فعل رسول کا نام ہے جو کہ عملا نہ کہ زبانی جمع خرچ۔