اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 773 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 773

وقال الذين ١٩ الشعراء ٢٦ قَالُوا بَلْ وَجَدْنَا آبَاءَنَا كَذلِكَ يَفْعَلُونَ ۷۵۔انہوں نے جواب دیا نہیں تو بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طرح کرتے پایا۔قَالَ أَفَرَءَ يْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ ) ۷۶۔ابراہیم نے کہا بھلا تم دیکھتے ہو کہ تم کیا انْتُمْ وَآبَاؤُكُمُ الْأَقْدَمُونَ پوجتے رہے ہو۔۷۷۔تم اور تمہارے اگلے باپ دادا۔فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِي إِلَّا رَبَّ الْعَلَمِينَ ۷۸۔تو وہ مورتیں تو میری دشمن ہیں کے ہاں سب جہانوں کو آہستہ آہستہ کمال کو پہنچانے والا وہی ہے جو میرا رب ہے۔۷۹۔جس نے مجھے پیدا کیا پھر وہی مجھ کو کامیابی کی راہ دکھا رہا ہے۔الَّذِي خَلَقَنِيْ فَهُوَ يَهْدِيْنِ وَالَّذِي هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ ۸۰۔اور وہی مجھ کو کھلاتا پلاتا ہے۔وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ ۸۱۔اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھ کو شفا دیتا ہے۔لے پھر یہ بت میرے ساتھ کچھ کر سکتے ہیں تو کریں۔سے وہ مجھ پر کوئی مصیبت نہ لائے۔آیت نمبر ۷۵ - كَذلِكَ يَفْعَلُونَ الخ۔ایسا ہی کرتے ہیں۔دنیا میں تو لوگ جدت پسند ہیں کوئی یہ نہیں کہتا کہ میں ریل۔گی۔بائیسکل وغیرہ پر کیوں سوار ہوں میرے بزرگ تو بنڈیوں پر بیٹھا کرتے تھے۔دین کے معاملہ میں اَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَ نا کہہ دیتے ہیں۔اس میں ایک لطیفہ تو ہے کہ قدیم مذہب قرب الہی والوں یعنی مقربین حق کا صاحب الہام و وحی ہوتے ہیں پسند کرنا ہے مگر مجد دین جوغلطیوں کو اصلاح کر کر قدیم کو جدیدوں کے سامنے جدید کر کے پیش کرتے ہیں در حقیقت وہ بات جدید تو نہیں ہوتی مگر پیرا یہ یا تفہیم یا اصلاح بحق وبجا اس کو نئے روپ میں کر دیتی ہے مگر إِلَّا مَا شَاءَ اللهُ عام کو وہ بات جدید معلوم ہوتی ہے اور ڈرتے ہیں کہ حق قدیم جو وحدہ لاشریک کے ساتھ آ رہا ہے ہاتھوں سے نہ جاتا رہے۔اس لئے وہ اصلاح شدہ جدید کو نہیں مانتے۔سب باتوں میں تحقیقات اور جدت کو پسند کرتے ہیں۔صرف دین میں نہیں اگر چہ وہ غلط خیالات سے کتنا ہی دور از حق ہو گیا ہو۔نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ سُوءِ الْفَهْم