اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 71
سيقول ٢ البقرة ٢ سَل بَنِي إِسْرَاعِيْلَ كَمْ أَتَيْنَهُمْ مِنْ آيَةٍ ۲۱۲۔بنی اسرائیل سے پوچھ لوکس قدر کھلے کھلے نشانات ان کو ہم نے دیئے اور جو شخص بدل بَيْنَةٍ وَمَنْ يُبَدِّلُ نِعْمَةَ اللهِ مِنْ بَعْدِ ڈالے اللہ کے انعام کو اُس کو ملے بعد تو بے شک ) مَا جَاءَتْهُ فَإِنَّ اللهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔زُيِّنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوا الْحَيَوةُ الدُّنْيَا ۲۱۳ مغرور وں کو مرغوب کر دی گئی، اور پسند آگئی ہے حق چھپانے والوں کو دنیا ہی کی زندگی وَيَسْخَرُونَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ اور وہ ہنسی کرتے ہیں مسلمانوں سے اور متقی اُن اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَاللَّهُ يَرْزُقُ کے مرے بعد فاتح اور غالب اور بڑھ چڑھ کر اور اعلیٰ درجہ پر ) ہوں گے قیامت میں۔اور مَنْ يَّشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ اللہ روزی دیتا ہے جس کو چاہتا ہے بے حساب۔كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ الله ۲۱۴۔سب لوگ ایک ہی رنگ سے رنگین تھے پھر آیت نمبر ۲۱۲ - آيَةٍ بَيْنَة - بتیہ البہیہ دو قسم کے ہیں ایک وہ جس میں انسان کا دخل نہیں جیسے قومی انسانی وغیرہ۔دوسرے جس پر انسان کو قدرت ہے یا دی گئی ہے جیسے دونوں کی مثال سطح زبان ہے۔جبر کی مثال یوں ہے خلاف مذوقہ کچھ نہیں بتا سکتی اور اختیار واقعی چیز کے اظہار میں ہے یہ اختیاری ہے۔اور وہ مجبوری اسی زبان سے اچھے کو بُرا کہہ لو یا زبان کو روک لو نتیجہ یہ ہوگا کہ کوئی مجبور کہے تو کہونہیں کوئی مختار کہے تو کہو نہیں۔حضرت جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشاد ہے لَا جَبُرَ وَ لَا قَدْرَ وَلَكِنْ أَمْرٌ بَيْنَ أَمْرَيْنِ۔میانه روی یاں سزاوار ہے نه مجبور بندہ نہ مختار ہے شَدِيدُ الْعِقَابِ عِقَابِ عَقَبَ سے مشتق ہے جو گناہ کے عقب میں آتا ہے۔آیت نمبر ۲۱۳۔زُيِّنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوا۔یہاں زُيْن کا فاعل شیطان ہے کیونکہ آتا ہے اِذْزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطنُ أَعْمَالَهُمُ (الانفال:۲۹) اور ایک جگہ کفار کو فاعل ڈالا ہے مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَتْلَ أَوْلَادِهِمْ (الانعام: ۱۳۸) ایمان کا مزین اللہ تعالیٰ ہے چنانچہ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيْمَانَ وَزَيَّنَهُ (الحجرات: ٨) -