اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 771
وقال الذين ١٩ إِنَّ هَؤُلَاءِ تَشِرْيَمَةٌ قَلِيلُونَ وَإِنَّهُمْ لَنَا لَغَابِظُوْنَ وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَذِرُونَ الشعراء ٢٦ ۵۵۔البتہ یہ تھوڑے سے لوگ ہیں۔۵۶۔اور انہوں نے ہم کو ناراض کیا ہے۔۵۷۔اور ہم سب چوکس رہنے والے لوگ ہیں۔فَأَخْرَجْنُهُمْ مِنْ جَنَّتٍ وَعُيُونٍ ۵۸ - (اللہ فرماتا ہے ) پھر ہم نے نکال دیا ان کو باغوں اور چشموں سے۔وَكُنُوزِقَ ۵۹۔اور خزانوں اور عزت دار مکانوں سے۔كَذلِكَ وَأَوْرَثْهَا بَنِي إِسْرَاءِ يْلَ ۶۰۔اور یہ واقعہ یوں ہی ہوا اور وارث بنایا اس فَأَتْبَعُوهُمْ مُّشْرِقِيْنَ جیسے ملک کا ہم نے بنی اسرائیل کو۔۶۱۔پھر فرعون کے لوگوں نے ان کا پیچھا کیا سورج نکلتے۔فَلَمَّا تَرَاءَ الْجَمْعُنِ قَالَ اَصْحَبُ مُوسَى ۶۲۔پھر جب ایک دوسرے کو دونوں جماعتیں دیکھنے لگیں تو موسیٰ کے ساتھ والوں نے کہا إِنَّا لَمُدْرَكُونَ ہم تو پکڑے گئے۔قَالَ كَلَّا إِنَّ مَعِيَ رَبِّيٌّ سَيَهْدِيْنِ ۶۳۔موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔یعنی بنی اسرئیل۔یعنی فرعون کو۔آیت نمبر ۵۷ - حذِرُونَ۔یعنی گو بنی اسرائیل تھوڑے ہیں اور ہم بہت ہیں مگر ہوشیاری یہی چاہتی ہے کہ سب جمع کئے جائیں۔آیت نمبر ۶۰ - وَاَوْرَثْهَا۔یہ ضمیر مثل کی طرف جاتی ہے نہ اصل کی طرف جیسے اَخَذْتُ الدِّرْهَمَ وَ نِصْفَهُ بَي اسرائیل کبھی مصر کے مالک نہیں ہوئے ہیں۔ارض مقدس یعنی شام کا (جس کو یہود یہ بھی کہتے ہیں ) کو پہنچے۔لَمُدْرَكُونَ معلوم ہوتا ہے کہ ادراک اور رؤیت میں فرق ہے کیونکہ ایک دوسرے کو دیکھ کر جب بنی اسرائیل چلائے ہیں کہ انا لَمُدْرَكُوْنَ۔تو موسیٰ نے جواب دیا گلا ہرگز ایسا نہیں۔تو لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ سے یہ استدلال کرنا جیسا کہ شیعہ اور معتزلی کا مذہب ہے کہ دیدار الہی نہ ہو گا محض غلط ہے کیونکہ اِدراک کے معنے ہیں احاطہ کرنا۔تو یہ ناممکن ہے اور دیکھنے کی نسبت تو صاف قرآن میں موجود ہے اِلى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ (القيامة :۲۴)۔آیت نمبر ۶۳ - إِنَّ مَعِيَ رَبِّى - موسیٰ علیہ السلام نے برخلاف رسول اللہ علی کے معنی اور رسول اللہ نے غارِ ثور میں اِنَّ اللهَ مَعَنَا کہا دونوں کا فرق ظاہر ہے۔