اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 764 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 764

وقال الذين ١٩ ۷۶۴ الشعراء ٢٦ سُوْرَةُ الشُّعَرَاءِ مَكَّيَّةٌ وَّ هِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ مِائَتَانِ وَثَمَانٍ وَّ عِشْرُونَ آيَةً وَّ اَحَدَ عَشَرَ رُكُوعًا بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔ہم سورۃ شعراء کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس اللہ کے نام سے جو بے محنت بھی دے دیتا ہے تِلْكَ أَيْتُ الْكِتَبِ الْمُبِينِ اور محنت کو بھی ضائع نہیں کرتا۔٢- طبة ۳۔طور سیناء کے مثیل کے لئے ، یہ آیتیں کتاب مبین کی اُتری ہیں۔تمہید۔یہ ایسی سورۃ شریف ہے کہ تصدیق کی بنا اس پر ہے۔نبوت کے اعلیٰ درجے کے دلائل اس میں دیئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ایک ایسی ذات ہے جس کو کسی نے نہیں بنایا۔اسی طرح اس کی صفات کو کسی نے نہیں بنایا۔یہ سوال بڑا ہی ٹیڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کیا ضرورت تھی جو اس نے مخلوق بنائی تو جواب یہ ہے کہ خدا کی صفات ہوں اور وہ مؤثر نہ ہوں تو صفات ہی کیا ہوئیں۔پس وہ خالق تھا اس لئے خلق بنائی۔قادر تھا اس لئے قدرت دی۔غرض جس قدر چیزیں بنی ہیں اُس کی صفات کا تقاضا ہیں۔وہ صاحب اختیار و طاقت تھا اس لئے اس نے طاقت و اختیار بھی دیا۔وہ صاحب وسعت تھا اس لئے وسعت بھی مخلوق کو ملی۔اللہ نے نور وظلمت سبھی بنائے ہیں۔اب جو ظلمت میں جاتا ہے اسے امتیاز نہیں رہا اور جونور میں آتا ہے اسے ہر ایک چیز بڑی بھلی سوجھنے لگتی ہے۔اب سزا کی وجہ یہ ہے کہ نور کی طرف نہیں آتا کیونکہ نور کے ہاتھ میں ہدایت اور امتیاز کا چراغ ہوتا ہے اور ظلمت والا اندھا ہو کر ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے۔نور و ظلمت کی سدا جنگ ہو رہی ہے اور یہ سمندر بڑے زور سے بہہ رہے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مخلوقات کا باہم تبادلہ بھی ہوتا رہتا ہے۔اچھوں سے بد اور بدوں سے اچھے ہوتے رہتے ہیں۔اس مضمون سے یہ راز سر بستہ بھی کھل گیا کہ انبیاء کیوں آتے ہیں اور وہ کس جماعت کے سرگروہ ہوتے ہیں۔ظلماتی خلقت کا منہ پھٹ سرگروہ شیطان ہے اور گندہ گروہ ہے اور آدم نور و امتیاز کا سردار صاحب وسعت ہے۔رہے فرشتے وہ صرف تسبیح اور تقدیس کا حصہ رکھتے ہیں یہ لوگ مامور من اللہ نہیں ہو سکتے کیونکہ خلیفتہ اللہ بنا صاحب وسعت عظیم کا کام ہے۔حاصل کلام بُرے بھلے کی پہچان کے لئے یہ سورہ شریف ایک معیار کامل ہے۔آیت نمبر ۲ - طسم - ط سے طاہر۔اس سے سمیع۔م سے علیم پائی۔طسم باط سے طَامِع۔س سید۔م مُحَمَّد۔اے محمد سيد ولد آدم تو نیکی کا حریص ہے۔