اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 757
وقال الذين ۱۹ ۷۵۷ الفرقان ٢٥ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيْلان معبود اپنی خواہش کو بنا لیا ہے پھر کیا تو اس پر نگہبان ہوسکتا ہے۔أَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُونَ أَوْ ۴۵ کیا تو سمجھتا ہے کہ ان میں اکثر سنتے یا عقل يَعْقِلُونَ إِنْ هُمْ إِلَّا كَالْأَنْعَامِ بَلْ رکھتے ہیں۔نہیں نہیں!! وہ تو اکثر جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں۔هُمْ أَضَلُّ سَبِيلان الَمْ تَرَ إِلى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظَّلَّ وَلَوْ ۴۶۔کیا تجھے معلوم نہیں کہ تیرے رب نے کیسا شَاءَ لَجَعَلَهُ سَاكِنَّا ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ پھیلا دیا سایہ اور اگر چاہتا تو اس سایہ کو ٹھہرا دیتا پھر ہم نے ٹھہرا دیا آفتاب کو اس پر دلیل۔عَلَيْهِ دَلِيْلان ثُمَّ قَبَضْنُهُ إِلَيْنَا قَبْضَايَّسِيرًا ۴۷۔پھر ہم نے اس کو کھینچ لیا اپنی طرف آسان کھینچنا۔وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ لِبَاسًا وَ النَّوْمَ - وہی اللہ ہے جس نے بنا دیا رات کو تمہارے لئے پردہ اور نیند کو آرام کا سبب اور (بقیہ حاشیہ ) میں جو کی دیکھتے ہیں یا کمال میں فرق پاتے ہیں تو اُس کو اُسی امر کی حکیمانہ تنبیہ فرما دیتے۔ایک باطنیہ فرقہ کے فقیر کا قول ہے کہ ہمارے نزدیک تو سبھی اچھے ہیں۔موجودہ جھگڑے ملانوں کے بکھیڑے ہیں۔ایک نورانی بزرگ نے اس کا جواب دیا کہ اگر ایسا ہے تو تمہارے پاس سبھی بُرے ہیں کیونکہ کوئی فرقہ کسی کو اچھا نہیں سمجھتا۔آیت نمبر ۴۶ - الظل - صبح صادق سے لے کر سورج نکلنے تک کا وقت ظل ہے۔اللہ تعالیٰ اہلِ مکہ کو بتلا رہا ہے کہ رسول کریم کا زمانہ مکہ میں ظلّ کے رنگ میں ہے۔دیکھو سورج نکل آیا ہے۔ظلّ میں یہ کیفیت ہوتی ہے کہ جانداروں میں ہلچل پڑ جاتی ہے اور وہ فطرتی اقرار ہوتا ہے دن اور سورج کے نکل آنے کا۔پرندوں سے عبرت پکڑ نا صبح کی نماز کے لئے مفید طریقہ ہے۔آج کل بھی خاص خاص لوگوں کو اسلام کی طرف بڑی حرکت ہے کیونکہ رسول اللہ عل الله کی چی نیابت کا سورج نکل آیا ہے یعنی مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ الصلوۃ والسلام پیدا ہو چکے ہیں۔دلیلا۔اس میں سورج پر ستوں کو تنبیہ فرمائی ہے کہ یہ تو تمہارا خادم ہے معبود کیسے بن گیا۔آیت نمبر ۴۸ - لباسا۔سو قدم سے دوست بھی نہیں پہچانا جاتا۔رسول اللہ سے پہلے جو حالت عرب کی تھی اسی کی طرف اشارہ ہے۔