اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 756
وقال الذين ١٩ ۷۵۶ الفرقان ٢٥ وَقُرُوْنًا بَيْنَ ذَلِكَ كَثِيرًا اور ان کے بیچ میں بہت سی جماعتیں اور سنگتوں کو ہم نے ہلاک کر دیا۔وَكُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْأَمْثَالَ وَكُلًّا ۴۰۔اور سب ہی سے ہم نے بیان کیں اعلیٰ درجہ کی باتیں اور سب کو ہم نے غارت کر دیا۔تَبَّرْنَا تَثْبِيرًان وَلَقَدْ أَتَوْا عَلَى الْقَرْيَةِ الَّتِى أُمْطِرَتْ ۱۔اور بے شک مکہ کے کافر ہو آئے ہیں ۴۱۔مَطَرَ السَّوْءِ اَفَلَمْ يَكُونُوا يَرَوْنَهَا ایسی بستی پر جس پر بُری بارش برسائی گئی تو کیا یہ اس کو دیکھتے نہ تھے ہاں تو یہ امید ہی نہیں بَلْ كَانُوا لَا يَرْجُونَ نُشُورًا رکھتے ہیں مرے بعد جینے کی۔وَإِذَا رَأَوْكَ إِنْ يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا ۴۲۔اور یہ جب تجھ کو دیکھتے ہیں تو تیرے ٹھٹھے ہی کرتے ہیں۔کیا یہی شخص ہے جس کو اللہ نے آهُذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ رَسُوْلًا پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔إِنْ كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ الهَتِنَالُوْلَا أَنْ صَبَرْنَا ۴۳ - یہ تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بھٹکا دے گا ہم کو عَلَيْهَا وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِيْنَ يَرَوْنَ اپنے معبودوں سے اگر ہم نہ صبر کرتے اُن پر اور آگے چل کر یہ معلوم کر لیں گے جب عذاب الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلًا دیکھیں گے کہ کون بہت ہی راہ سے بھٹکا ہوا ہے۔أَرَعَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوهُ أَفَأَنْتَ ۴۴۔بھلا تو نے دیکھا اس شخص کو جس نے اپنا آیت نمبر ۴۰۔تَبَّرُنَا تَثْبِيرًا۔یہ مسئلہ قرآن شریف میں بہت ہی تکرار اور وضاحت سے بیان ہوا ہے کہ ہمیشہ مرسلین کی تکذیب ہوتی رہی اور انجام میں مکذب نا مراد اور نابود ہو گئے۔آیت نمبر ۴۲ - الهذا۔یعنی یہ غریب مفلس گم نام جو سر دار قوم نہیں ہے کیا یہ رسول ہوسکتا ہے؟ آیت نمبر ۴۳ - صَبَرْنَا۔یعنی ہم نے اپنے دین کو بڑی مضبوطی سے پکڑ رکھا ہے ورنہ یہ بہکا ہی دیتا۔آیت نمبر ۴۴ - الهه هو سے۔جیسے دنیوی لذتیں خلاف حکم الہی اور نا مشروع درود وظائف اور عمل اور ہر ایک نیک بات میں افراط و تفریط خواہش نفس کے موافق ہوں تو عامل اس کا فرمانبردار نفس ہے اور نفس پرست سمجھا جائے گا نہ عابد حق اور حق پرست۔نکتہ۔اس میں بھی نا کبھی سے اتباع نفس ہو جاتی ہے کہ کہیں حدیثوں میں آتا ہے غضب چھوڑ دو حلم اختیار کرو تو بس ہے۔کہیں خیانت نہ کرو امانت دار ہو تو بس ہے۔کہیں نماز وغیرہ وغیرہ امور کی تاکید آتی ہے۔حَتَّی کہ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وغیرہ۔مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺہے جن