اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 68
سيقول ٢ ۶۸ البقرة ٢ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا شخص اُن مہینوں میں حج کا قصد کرلے تو وہ عورت سے صحبت سے نہ کرے اور نہ ( کسی قسم کی) جِدَالَ فِي الْحَقِّ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ بدکاری کرے اور نہ جھگڑا حج (کے دنوں) میں يَعْلَمُهُ اللهُ وَتَزَوَّدُوْا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ ﷺ اور جو کچھ نیکی کرو تم وہ اللہ کو معلوم ہے اور تم التَّقْوَى وَاتَّقُونِ يَأْولِي الْأَلْبَابِ سامان اور توشہ ساتھ لو اور عمدہ سے عمدہ توشہ تو تقویٰ (اور اللہ سے ڈرنے کا) ہے ، اور مجھ ہی سے ڈرو اور مجھ ہی کو سپر بناؤ اے عقل والو۔لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ 199 تم کو منع نہیں کچھ مال کی تجارت کرنا ہے تو رَّبِّكُمْ ۖ فَإِذَا أَفَضْتُمُ مِنْ عَرَفْتٍ پھر جب کوچ کرو عرفات سے تو مشعر الحرام (مزدلفہ ) کے پاس اللہ کی یاد کرو۔اور اللہ کو یاد فَاذْكُرُوا اللهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ کرو اس طرح جس طرح اُس نے تم کو بتایا ہے وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدِيكُمْ ۚ وَاِنْ كُنْتُمْ (رسول کے ذریعہ ) اور اس سے پہلے تو تم البتہ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ ثُمَّ اَقِضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ ۲۰۰۔پھر تم بھی چلو جہاں سے دوسرے لوگ چلیں اور اللہ ہی سے گناہ بخشواؤ بے شک اللہ راہ بھولے ہوؤں میں سے تھے۔وَاسْتَغْفِرُوا اللهَ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمُ ) بڑا ڈھانپنے والا سچی کوشش کا بدلہ دینے والا ہے۔رَفَتْ کا لفظ جماع و تذکرۂ جماع و سامان جماع تینوں پر بولا جاتا ہے۔سے جو احکام حج کے خلاف ہو۔ے یعنی بھیک مانگ کر اور قرض لے کر نہ جاؤ۔۴ ہر عبادت کے بعد استغفار اور مجلس سے برخاست کے بعد استغفار پڑھیں۔آیت نمبر ۱۹۸۔وَتَزَوَّدُوا - صاحب استطاعت پر حج فرض ہے کیونکہ صاحب زاد سوال اور گناہ یعنی چوری وغیرہ سے بچ جاتا ہے زاد کا فائدہ سوال سے بچنا ہو گا تو مانگ کر حج کو جانا نا جائز ہے۔آیت نمبر ۱۹۹ - اَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا - مال تجارت کو اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا ہے تو وہ ہمارے زمانہ کے کم عقل فقراء صوفیوں کی تنبیہ کے لئے ہے قابل تحقیر نہیں بلکہ فضل رب ہے۔آیت نمبر ۲۰۰- ثُمَّ أَقِضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ - یہ دو غلط رسموں کا ازالہ ہے۔(۱) عرفات سے آگے بڑھو اکٹھے مل کر۔(۲) مزدلفہ سے سویرے کوچ کرو۔دیر نہ کرو۔