اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 741
قد افلح ۱۸ ۷۴۱ النور ٢٤ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيْهِ الْقُلُوبُ لوگ تو اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں الٹ وَالْأَبْصَارُقُ جائیں گے دل اور آنکھیں۔لِيَجْزِيَهُمُ اللهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوا ۳۹۔تا کہ ان کو اللہ جزا دے ان کے عمدہ سے عمدہ کاموں کی اور اپنا مال ان کو اور بھی زیادہ دے اور وَيَزِيدَهُمْ مِنْ فَضْلِهِ وَاللَّهُ يَرْزُقُ اللہ جسے چاہتا ہے روزی دیتا ہے بے حساب (یعنی مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ یه لوگ دست به کار اور دل بہ یار ہوتے ہیں)۔وَالَّذِيْنَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابِ ۴۰۔اور جو لوگ حق کو چھپانے والے بے ایمان بِقِيْعَةِ يَحْسَبُهُ الثَّمَانُ مَاءً حَتَّى إِذَا ہیں ان کے کام جنگلی ریت کے میدان کے جیسے ہیں، پیاسا تو اس کو سمجھتا ہے پانی یہاں تک کہ جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا وَوَجَدَ اللهَ عِنْدَهُ جب اس کے پاس آتا ہے تو وہاں کچھ نہیں پاتا فَوَفَّهُ حِسَابَهُ وَاللهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ ار پایا اللہ کو اس کے پاس اور اس کو پورا پورا چپکا دیا اس کا حساب اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔اَوْ كَظُلُمتٍ فِي بَحْرِلُتِي يَخْشُهُ مَوْجٌ ۴۱۔یا اس کی حالت اندھیروں کے جیسی ہے۔مِنْ فَوْقِهِ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ سَحَابٌ گہرے دریا میں اس کو دبا لیتی ہے ہر۔پھر ہر پر اہر اور اس کے اوپر بادل۔غرض گھٹا ٹوپ آیت نمبر ۴۱۔اَوْ كَظلمت۔اس رکوع کے اوّل سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے تین قسم کے لوگوں کا حال بیان کیا ہے۔ایک تو آسمانی نور والے یعنی رسول اللہ کے بچے متبع جن کو تجارت خرید وفروخت وغیرہ امور خدا کی یاد سے اور اعمال صالحہ سے غافل نہیں کرتے۔دوسرے خشک عقل کے پیرود ہریئے جن کی حالت ریگ بیابانی سے تشبیہ دے کر ظاہر فرمائی۔تیسرے اہلِ کتاب جن کی حالت بحر عمیق مواج سے تشبیہ دے کر ظاہر فرمائی۔پھر دوسرے رکوع یعنی گیارہویں کی (۹) آیت سے ان مسلمانوں کا ذکر کیا جو کہتے ہیں ہم فرمانبردار ہیں مگر اپنے قول کے خلاف کرتے ہیں اور مریض القلب اور مشکی اور ناقص الایمان ہیں۔پھر بارہویں آیت میں اس کا جواب ہے کہ کامل الایمان اور ناقص الایمان میں فرق کیا ہے تو بتایا کہ زمین میں وہ خلیفہ بنائے جائیں گے جو اچھے عمل کرتے رہیں اور ان کے پسندیدہ دین کو قائم کریں گے۔تو کیا ابوبکر صدیق اور عمر فاروق اور عثمان غنی اور علی مرتضی رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ وَ تَابِعَهُمْ إِلَى يَوْمِ الدِّين سے بڑھ کر کوئی کامل الایمان ہو سکتا ہے؟