اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 740
قد افلح ۱۸ ۷۴۰ النور ٢٤ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ ہے جیسے ایک طاق ہے جس میں ایک چراغ ہے وہ چراغ شیشے کی قندیل میں رکھا ہوا ہے اور دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبَرَكَةِ زَيْتُونَةٍ وہ قندیل گویا وہ ایک چمکدار تارا ہے۔وہ روشن لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا کیا جاتا ہے زیتون کے مبارک درخت سے وہ يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارُ نُورُ عَلى نه شرقی ہے نہ غربی سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تیل روشن ہو جائے اگر چہ اس کو آگ بھی نہ نُوْرٍ يَهْدِى اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ چھوٹے ہے۔وہ نُورٌ علی نُور ہے اور اللہ اپنے وَيَضْرِبُ اللهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللهُ نُور کی راہ بتا دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ بیان فرماتا ہے اعلیٰ درجہ کی بات لوگوں کو اور بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ حمد اللہ بخوبی واقف ہے ہر ایک چیز سے۔في بُيُوتٍ أَذِنَ اللهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا ۳۷۔(ابھی تو وہ ٹور ) چند ہی (ان) گھروں اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُو وَالْآصَالِ 3 میں روشن ہے جہاں اللہ نے حکم دیا ہے کہ انہیں بلند کرے اور اس کا نام مبارک اس میں لیا جائے اس میں اللہ کی تسبیح کرتے رہتے ہیں صبح اور شام۔رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ۳۸۔وہ ایسے لوگ ہیں جن کو غافل نہیں کرتی ان کی سوداگری اور نہ خرید وفروخت اللہ کی یاد سے ذِكْرِ اللهِ وَإِقَامِ الصَّلوةِ وَإِيتَاءِ الزَّكوة اور ٹھیک نماز پڑھنے سے اور زکوۃ دینے سے وہ لے یعنی اپنے نور کا عکس جس میں ڈالا ہے۔ہے یعنی وحی کا مبارک تیل پاتا ہے۔آسمانی ہے۔۴ اسباب بھی نہ ہوں مگر خود ہی چمکے گا۔(بقیہ حاشیہ) میں ہے اللہ نے خبر دی کہ وہ گھر بڑے ہو جائیں گے۔جن سے صحابہ کے گھروں کے طرف اشارہ ہے جہاں رسول اللہ رہتے ہیں۔یہاں سے خلافت کا مسئلہ شروع ہوا ہے جس کی اب تک تمہید تھی اور شیعوں کا خوب رد فرمایا گیا اور آخر اس قوم پرفسق کا فتویٰ دیا اور فرمایا کہ عام گھروں میں آنے کی اجازت لیا کرو کجا کہ صحابہ کے مطاعن تلاش کیا کریں وغیرہ وغیرہ امور غور کے قابل ہیں۔نُورٌ عَلَى نُورٍ۔یعنی ہمارے رسول کی فطرت بھی اعلیٰ درجہ کی ہے اور وحی بھی اعلیٰ درجہ کی ہے۔آیت نمبر ۳۷۔وَالْاصالِ۔صحابہ کرام کے گھروں کی طرف اشارہ ہے جہاں رسول امین ہیں۔اب یہاں سے خلافت کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اب تک اس کی تمہید تھی۔