اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 738
قد افلح ۱۸ ۷۳۸ النور ٢٤ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَ أو ابنَا بِهِنَّ أَوْ أَبْنَاء اپنے بیٹوں پر یا اپنے خاوند کے بیٹوں پر یا اپنے بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ بھائیوں پر یا اپنے بھتیجوں پر یا اپنے بھانجوں پر یا اپنی عورتوں پر یا اپنے ہاتھ کے مال پر لے یا أو بَنِي أَخَوَتِهِنَّ أَوْ نِسَا بِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ طفیلیوں پر جو مرد صاحب شہوت نہیں یا اُن لڑکوں أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّبِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ پر جو خبر دار نہیں عورتوں کی شرم گاہوں پر اور مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الظُّفْلِ الَّذِينَ لَمُ پاؤں پٹک پٹک کر نہ چلیں زمین پر تاکہ معلوم يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَتِ النِّسَاءِ وَلَا ہو جاوے وہ جو اپنا سنگار چھپاتی ہیں اور تم مل کر رجوع بحق کرواے ایماندارو! يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ تا کہ تم نہال اور با مراد ہو جاؤ۔مِنْ زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللهِ جَمِيعًا اَيُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ وَاَنْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمْ وَالصَّلِحِينَ مِنْ ۳۳۔اور جس کا خاوند نہ ہو تم میں سے، اُس کا نکاح کر دو اور تمہارے نیک بخت غلاموں اور عِبَادِكُمْ وَاِمَا بِكُمْ إِنْ يَكُونُوا باندیوں کا۔اگر وہ محتاج ہوں گے تو اللہ انہیں فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللهُ مِن فَضْلِهِ وَالله مالدار کر دے گا اپنی مہربانی سے اور مال سے اور اللہ بڑا گنجائش والا ہے اور بڑا جاننے والا ہے۔وَاسِعٌ عَلِيمٌ وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا ۳۴۔اور چاہیے کہ وہ لوگ پاک دامن بنے رہیں جن کو نکاح کا مقدور نہیں یہاں تک کہ اللہ حَتَّى يُغْنِيَهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَالَّذِينَ ان کوغنی بنادے اپنے فضل سے اور جو غلام يَبْتَغُونَ الْكِتَبَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ چاہتے ہیں تحریر تو ان کو تحریر دو اگر تم ان میں یعنی باندی غلام پر۔(بقیہ حاشیہ) نِسَا بِهِنَّ۔عرب میں ناک کے لئے کوئی زیور نہیں ہماری شریعت میں اس لئے اس کا ذکر نہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عام عورتوں کے پردہ کا حکم ہے تو انگریز نیوں اور ڈاکٹرنیوں وغیرہ کو گھر میں آنے کی کیونکر اجازت ہو کیونکہ بڑے بڑے فساد زنانہ میں پیدا ہوتے ہیں۔آیت نمبر ۳۳۔الا یا ھی۔یعنی خواہ کنواری ہو یا بیوہ۔