اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 737
قد افلح ۱۸ ۷۳۷ النور ٢٤ حَتَّى يُؤْذَنَ لَكُمْ وَإِنْ قِيلَ لَكُمُ چلے جانا گھر میں جب تک کہ تم کو اجازت نہ دی جائے اور اگر تم سے کہا جاوے کہ واپس ارْجِعُوا فَارْجِعُوا هُوَ ازْىٰ لَكُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ چلے جاؤ تو واپس چلے جاؤ یہ تمہارے لئے بڑی صفائی اور حسن تہذیب کی بات ہے اور اللہ جو کچھ تم کر رہے ہو وہ سب جانتا ہے۔لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَدْخُلُوا بُيُوتًا ۳۰۔اس میں تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ چلے جایا کرو غَيْرَ مَسْكُونَةٍ فِيهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ ۖ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَكْتُمُونَ ) غیر آباد گھروں میں جس میں تمہارے فائدہ کا اسباب رکھا ہواور اللہ جانتا ہے جو تم دکھاتے ہو یا ظاہر کرتے ہو اور آئندہ دکھاؤ گے یا جو تم چھپاتے ہو۔قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ ۳۱۔ایماندار مردوں سے کہہ دے کہ اپنی ط وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ اَزْكى لَهُمْ آنکھیں نیچی رکھا کریں اور اپنی فرجوں کی حفاظت کیا کریں یہ ان کے واسطے زیادہ پاک ہے۔وہ جو کرتے ہیں اللہ اس سے خبر دار ہے۔إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ وَقُل لِّلْمُؤْمِنتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ ۳۲۔اور ایماندار عورتوں سے کہہ دے نیچی نگاہ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ رکھا کریں اپنی۔اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنے سنگار نہ دکھائیں مگر وہ زینت زِيْنَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِ بْنَ جو چھپ نہیں سکتی اور ان کو چاہیے کہ ڈالیں اپنی بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ اوڑھنیاں اپنی گردنوں اور گریبانوں پر اور نہ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبَا بِهِنَّ ظاہر کریں اپنا سنگار مگر اپنے خاوندوں پر یا اپنے باپ دادا پر یا اپنے خاوند کے باپ دادا پر یا آیت نمبر ۳۲ - يَغْضُضْنَ۔ہمارے مرشد حضرت اقدس قدس سرہ فرماتے ہیں کہ اس مسن سے متقی طیب وغیرہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور من سے مراد یہ ہے کہ اپنی پوری آنکھ بند نہ کرنا بلکہ کچھ دھیمی نگاہ سے دیکھنا۔إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ـ مثلاً پاؤں یا ضرورة آواز یا بیماری میں ہاتھ وغیرہ حکیم کو دکھانا۔جُيُوبِهِنَّ۔یعنی سر پر سے منہ کے سامنے گھونگھٹ لٹکا کر دو پٹہ رکھیں تا کہ نظر بھی نیچی رہے اور سر بھی ڈھپا رہے۔ہمارے ہندوستان میں ماڑ واڑ نیاں گھونگھٹ کھینچ کرمنہ پر دوپٹہ اوڑھتی ہیں۔خاص کر جب کوئی بزرگ واجب التعظیم سامنے ہو۔