اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 733
قد افلح ۱۸ ۷۳۳ النور ٢٤ لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ ۱۳۔ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے سنا تھا گمان کرتے ایماندار مرد اور ایماندار عورتیں اپنے لوگوں کے حق میں بہتری کا اور کیوں نہ بول اٹھے کہ یہ جھوٹی تہمت ہے صریح۔وَالْمُؤْمِنْتُ بِأَنْفُسِهِمْ خَيْرًا وَقَالُوا هَذَا افك مُّبِينٌ لَوْلَا جَاءُ وَ عَلَيْهِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ۱۴۔وہ لوگ کیوں نہ لائے اس پر چار گواہ جب وہ گواہ نہیں لائے تو یہی لوگ اللہ کے فَإِذْ لَمْ يَأْتُوا بِالشُّهَدَاءِ فَأُولَيكَ عِنْدَ اللهِ هُمُ الْكَذِبُونَ نزدیک جھوٹے ہیں۔(بقیہ حاشیہ ) جہاد میں میرے نام نکلا تو آپ مجھے ساتھ لے گئے۔آیت حجاب نازل ہو چکی تھی۔اونٹ کے ہودج میں چلتی تھی۔جب اس سفر سے واپس آئی رات کو مدینہ کے قریب ٹھہرنا ہوا اور رات سے کوچ پکارا گیا۔میں قضائے حاجت کو گئی ہوئی تھی لوٹ کر آئی تو گلے کا گلو بند نہ پایا۔اس کو لینے گئی اتنے میں لوگوں نے میرا ہودج اسی طرح اونٹ پر کس دیا اور بوجھ کا خیال نہ کیا کیونکہ اس زمانہ میں تنگدستی کی وجہ سے کھانا کم ملتا تھا عورتیں دبلی تھیں۔وہ سمجھے کہ میں ہودج میں ہوں۔قافلہ چلا گیا تھا میں لوٹ کر آئی تو کسی کو نہ پایا یہ سمجھ کر میں وہیں بیٹھ گئی کہ کوئی تلاش کرتا ہوا آوے گا۔اتنے میں مجھے نیند آ گئی۔صَفْوَان بنُ مُعَطَّل لشکر کے پیچھے اس لئے چھوڑا جاتا تھا کہ گری پڑی چیز ، بھولے بھٹکے آدمی کا خیال رکھے۔جب وہ قریب آیا اور صبح ہوگئی تھی تو اس نے مجھے پہچان کر انا للہ کہا کہ اس کی آواز سے میں بیدار ہوگئی۔پھر اس نے اپنے ہاتھوں پر کپڑا لپیٹ کر اپنے اونٹ پر چڑھا لیا اور نہ میں نے اس سے کچھ بات کی اور نہ اس نے مجھ سے کچھ بات کی۔قریب دو پہر کے وہ ٹھہراؤ پر لے آیا۔عبداللہ ابن ابی منافق نے جو بظاہر مسلمان تھا نشان طوفان اٹھایا اور مجھ پر تہمت لگائی اور حسان بن ثابت اور مسطح اور حَمُنا بنت جحش اس کی ہاں میں ہاں ملانے والے اور اس بات کو مشہور کرنے والے ہوئے۔جب یہ خبر سطح کی والدہ کے ذریعہ مجھے پہنچی تو میری آنکھوں سے آنسو تھمتے نہ تھے مہینے بھر تک یہی حال رہا اور آنحضرت التفات سابقہ سے پیش نہ آتے تھے آخر کار میری بریت میں یہ آیت نازل ہوئی اور مجھے پہلے ہی سے اللہ پر پورا بھروسہ تھا کہ وہ ضرور میرے معاملہ میں کچھ نازل فرما کر مجھے سچا کرے گا۔عَذَابٌ عَظِيم۔روایت ہے کہ حسّان بن ثابت جناب صدیقہ کے پاس بیٹھے تھے۔کسی نے کہا یہ وہی ہیں جنہوں نے تہمت میں شرکت کی تھی۔حضرت عائشہ نے جواب دیا ہاں سزا پا چکے ہیں یعنی آنکھیں کھو بیٹھے۔آیت نمبر ۱۳۔لَولا۔یہاں لولا تو شیخ کا ہے۔بِأَنفُسِهِمْ خَيْرًا جو شخص بد نظری اور اپنے کو لوگوں کی بدگمانی سے۔بچائے تو اس کے دل میں نور الہی داخل ہوتا ہے۔آیت نمبر ۱۴۔لَوْ لَا۔یہاں لو لا شرط کا ہے۔