اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 731
قد افلح ۱۸ ۷۳۱ النور ٢٤ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ وَلَا تَأْخُذْكُمْ بِهِمَا مرد ہر ایک کو ان دونوں میں سے سوسو ڈڑے مارو، اور تم کو ان دونوں پر ترس نہ آنا چاہئے رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللَّهِ اللہ کے دین میں جب تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا اور آخرت کے دن پر۔اور چاہئے کہ آ موجود ہوان کی سزا کے وقت ایک جماعت ایمانداروں کی۔طَائِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً -- بدکار مرد بد کار عورت سے نکاح کرتا ہے یا وَ الزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ مشرک عورت سے، اور بدکار عورت بدکار مرد سے نکاح کرے گی یا مشرک سے اور یہ ( نکاح أَوْ مُشْرِكٌ ۚ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى زانیہ ) حرام کیا گیا ہے ایمانداروں پر۔الْمُؤْمِنِينَ وَالَّذِيْنَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا ۵۔اور جولوگ زنا کی تہمت لگائیں پاکدامن بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمُنِينَ عورتوں کو پھر نہ لائیں چار گواہ تو ان کو آستی کوڑے مارو اور کوئی گواہی ان کی کبھی قبول نہ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةٌ اَبَدًا وَأُولَيكَ هُمُ الْفَسِقُونَ کرو اور یہی لوگ فاسق اور بدکار ہیں۔إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذلِكَ وَأَصْلَحُوا - ہاں جنہوں نے تو بہ کر لی بعد ایسے کام کے اور سنور گئے تو بے شک اللہ غفور الرحیم ہے۔فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمُ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ اَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ۔اور جو لوگ بدکاری کا عیب لگائیں اپنی لَّهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ بیبیوں کو اور ان کے پاس کوئی گواہ نہ ہو بجز اُن کے نفس کے تو ایسے ایک شخص کی گواہی یہ ہے کہ (بقیہ حاشیہ) جَلْدَة۔شریعت موسوی میں زنا کی سزا جان سے مارڈالنا تھا کتاب احبار باب ۲۰ و۱۰۔انجیل میں کچھ سزا نہیں ہے۔قرآن شریف نے افراط تفریط کو دور کر کے اصلاح فرما دی کہ سوسو کوڑے مارے جائیں۔سنت اور آثار سے ثابت ہے کہ یہ سزا بے بیا ہے مرد اور عورت کے لئے ہے ورنہ ان کی سزا رجم ہے۔آیت نمبر ۴۔حُرِّم۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رنڈی کے ساتھ نکاح جائز نہیں۔