اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 730 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 730

قد افلح ۱۸ ۷۳۰ النور ٢٤۔سُوْرَةُ النُّوُرِ مَدَنِيَّةٌ وَّ هِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ خَمْسٌ وَّ سِتَّوْنَ آيَةً وَّ تِسْعَةُ رُكُوعَاتٍ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔ہم سورۃ النور کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اللہ کے نام سے جو سب خوبیاں ہی رکھتا ہے اور بُرائیوں سے بالکل پاک ہے اور محض فضل سے رحم فرمانے والا اور محنت کا بدلہ بھی دینے والا ہے۔سُوْرَةٌ أَنْزَلْنَهَا وَفَرَضْنَهَا وَأَنْزَلْنَا فِيهَا ۲۔یہ ایک سورت ہے جس کو ہم نے اتارا اور ب سے اتٍ بَيِّنَتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ) لازم کیا لے اور اس میں اتاریں کھلی کھلی نشانیئیں تا کہ تم بڑے آدمی بن جاؤ اور نصیحت لو۔الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ ۳ زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والا ا لوگوں پر عمل کرنا اس پر۔تمهید: شاہ عبدالغنی صاحب مہاجر مد ین۔۔۔کا کہنا ہے کہ یہ سورہ شریف ہند میں بدعملی کی وجہ سے مدینه۔منسوخ ہورہی ہے۔کسی عورت نے کہا کہ اگر میں اس سورہ پر یہاں عمل کروں تو گھر میں رہنا مشکل ہو جائے۔اللہ تعالیٰ مسلمان مرد اور عورتوں کو ثبات فی الدین اور عمل بالقرآن نصیب کرے۔آیت نمبر ۳۔اَلزَّانِيَةُ۔زانیوں کے کئی گروہ ہیں۔سب سے بدتر راج دھاریوں کی جماعت ہے جو بدفعلی کراتے ہیں۔وام مارگی، پارسی جو کہ محرمات سے بھی احتراز نہیں کرتے۔دوسرے رنڈیئیں اور ڈو نئیں ہیں۔تیسرے خانگئیں ہیں پھر عام بدکار قو میں۔ان سے کم بد نظر یہیں کرنے والے ان سے کم قصے اور ناولیں پڑھنے والے وغیرہ وغیرہ۔اس سورہ شریف کا اصل مطلب تو خلافت کی بحث ہے اور شروع فرمایا زنا کے بیان سے۔اس میں بڑا راز ہے کیونکہ جو قوم خلفاء راشدین کے عیوب بیان کر نیوالی ہے اس کی نسبت خدا کو معلوم تھا کہ اُن میں فسق و فجور کثرت سے ہوگا۔شیعوں کی حالت کو غور سے دیکھو۔اور اس سورہ شریف کو اَنْزَلْنَهَا وَفَرَضْنَهَا (النور: ۲) کہہ کر شروع فرمایا ہے یعنی خلافت عطاء الہی ہے۔خلافت کے بیان سے پہلے ایک بہت بڑے گناہ کا ذکر کیا جس سے تمام تمدن درہم برہم ہو جاتا ہے کیونکہ تمدن کا قیام حفاظت نفس و دین و مال و عزت ونسب و عقل ان تمام کی حفاظت سے ہوتا ہے اور زنا ان تمام امور میں خلل انداز ہے چونکہ ایسے حوادثات کا روکنابدوں خلافت اور سلطنت اسلامی کے نہیں ہو سکتا۔رسول کی حیات اقامت شریعت کے لئے کافی نہیں وہ تو صرف تبلیغ شریعت کے لئے آتے ہیں۔شریعت کی اقامت کے لئے امام عادل مُقسط کے قیام کی ضرورت ہے۔خلفاء سے بھی یہی مراد ہے جیسے کہ ہم خلافت کی آیت میں تشریح کریں گے۔