اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 727 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 727

قد افلح ۱۸ ۷۲۷ المؤمنون ٢٣ حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ۱۰۰۔جب آ پہنچے ان میں سے کسی کو موت تو کہے گا اے میرے رب ! پھر مجھے واپس کیجئے۔ارْجِعُونِ لَعَلَّى اَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا ۱۰۱۔تا کہ میں نیک عمل کروں اس کام میں جس اِنَّهَا كَلِمَةً هُوَ قَابِلُهَا وَمِنْ وَرَابِهِمُ بَرْزَخٌ إِلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ ) کو میں چھوڑ آیا ہوں ایسا نہیں ہوسکتا بے شک وہ ایک بات ہے جو وہ بک رہا ہے اور ان کے آگے عظیم الشان روک ہے جب تک کہ وہ آخرت میں اٹھائے جائیں۔فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَا انْسَابَ بَيْنَهُمْ ۱۰۲- پھر جب صور پھونکا جائے گا تو نہ رشتہ داریاں اُن میں باقی رہیں گی اس دن اور نہ کوئی ایک يَوْمَبِذٍ وَّلَا يَتَسَاءَلُونَ ) دوسرے کو پوچھے گا۔فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَيكَ هُمُ ۱۰۳۔پھر جس کا پلہ بھاری ہو گیا تو یہی لوگ الْمُفْلِحُونَ نہال اور بامراد ہیں۔وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَبِكَ الَّذِيْنَ ۱۰۴۔اور جس کا پلہ ہلکا ہو گیا تو یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنا نقصان آپ کر لیا۔یہ جہنم میں خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ فِي جَهَنَّمَ خَلِدُونَ ہمیشہ رہیں گے۔آیت نمبر ۱۰۰۔حتی۔یہ حقی ابتدائیہ ہے جس کے معنے ہیں اور رَبِّ ارْجِعُونِ چاہیے تھا اِرْجِعُ۔یہاں جمع آ گیا ہے۔اصل میں تین بار تھا جو جمع کر دیا گیا ہے۔دنیا میں مُردوں کے واپس نہ آنے کی ایک دلیل ہے کیونکہ اس کا جواب نفی میں دیا گیا ہے۔آیت نمبر ۱۰۔گلا۔دنیا میں مردوں کے دوبارہ آنے کے مانع ہے یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس شخص کے جواب میں جو کہتا ہے کہ مجھے دنیا میں پھر بھیج دے تا کہ میں نیک عمل کروں۔اس کو ارشاد ہوتا ہے گلا ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا یعنی دنیا میں تم دوبارہ نہیں بھیجے جاسکتے۔يُبْعَثُونَ۔ارشاد ہوا وَ مِنْ وَرَا بِهِمُ بَرْزَخٌ إِلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ یعنی قیامت تک دنیا اور آخرت کے درمیان ایک حَيْلُولَهُ اور آڑہ ہے کہ نہ مُردہ ادھر آ سکے نہ اُدھر جس سے قیامت کے فیصلہ کے بعد نجات ہوگی۔مُردوں کے دنیا میں پھر نہ پلٹنے کی یہ بھی دلیل ہے۔