اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 717
قد افلح ۱۸ حَتَّى حِينٍ قَالَ رَبِّ انْصُرْنِي بِمَا كَذَّبُونِ 212 المؤمنون ٢٣ جنون ہو گیا ہے تو تم اس کا انتظار کرومرجانے تک۔۲۷۔نوح نے کہا اے میرے رب ! میری مددفرما کیوں کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا ہے۔فَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِ أَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا ۲۸ تو ہم نے اس کی طرف وحی بھیجی کہ ہماری وَوَحْنَا فَإِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ ร آنکھوں کے سامنے ایک کشتی بنا اور ہمارے ہی حکم سے اور جب ہمارا حکم آئے اور جوش مارے فَاسْلُكْ فِيهَا مِنْ كُلِّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ دن چڑھے یا ابلنے لگے تنور تو کشتی میں بٹھا لینا ہر وَأَهْلَكَ إِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ ایک میں سے دو دونر و مادہ کا جوڑا اور تیرے گھر مِنْهُمْ ۚ وَلَا تُخَاطِنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا والوں کو مگر اس کو نہیں جس کے لئے پہلے حکم ہو چکا ہے ڈوبنے کالے اور نہ کچھ مجھ سے پوچھنا ان إِنَّهُمْ مُّغْرَقُونَ ) ظالموں کے بارہ میں کیونکہ وہ ضرور ڈبائے جاویں گے۔فَإِذَا اسْتَوَيْتَ أَنْتَ وَمَنْ مَّعَكَ عَلَى ۲۹۔اور پھر جب تو ٹھیک بیٹھ لے اور تیرے الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي نَخْنَا ساتھی تو بولنا ہر قسم کا اللہ کا شکر ہے جس نے ظالم لوگوں سے ہمیں نجات دی۔مِنَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ وَقُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِي مُنْزَلًا مُبَرَكَا وَ أَنْتَ ۳۰۔اور کہنا اے میرے رب ! ہمیں اتارنا مبارک منزل میں اور تو ہی بہتر مقاموں میں اتارنے والا ہے۔خَيْرُ الْمُنْزِلِينَ اپ ۱۲۔رکوع ۴ آیت نمبر ۲۸۔فار - چونکہ یہ سب پیشگوئی ہے اس لئے ماضی بمعنی مضارع ہے اکثر قرآن شریف میں باعتبار علم یقینی اور الہی ہونے کے ماضی ہی کے لفظوں میں آتا رہتا ہے۔التَّنُّورُ۔(۱) مشہور روٹی پکانے کا۔(۲) زمین کے اوپر کا حصہ (۳) اونچی جگہ (۴) جہاں سے چشمہ نکلے (۵) پچھلی رات صبح صادق کے بعد کا حصہ۔رَبِّ انْزِلْنِی - حصول مقصد کے بعد بھی دعائیں کرتے رہنا چاہئے تا کہ حاصل شدہ زائل نہ ہو جائے۔آیت نمبر ۳۰ - مُنْزَلاً مبرگا۔اس سے وہ حدیث صحیح معلوم ہوتی ہے کہ بعض مکان منحوس ہوتے ہیں اور بعض گھوڑے اور عورتیں۔