اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 713 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 713

قد افلح ۱۸ ۷۱۳ المؤمنون ٢٣ سُوْرَةُ الْمُؤْمِنُونَ مَكَّيَّةٌ وَّ هِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ مِائَةٌ وَّتِسْعَ عَشْرَةَ ايَةً وَّ سِتَّةُ رُكُوعَاتٍ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔ہم سورہ مومنون کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس اللہ کے نام سے جو محض فضل سے سب کچھ قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ دینے والا اور محنت کا بھی ضائع نہیں کرنے والا۔۲۔بے شک با مراد وہ مومن ہوتے ہیں۔تمہید: دنیا میں لوگوں کے دو غلط خیالات مشہور ہیں۔ایک یہ کہ صرف ایمان ہی سے نجات ہوگی (۲) کہتے ہیں عذاب کرنے سے خدا کو کیا فائدہ یا عبادت کی اس کو کیا ضرورت ہے۔دینیات میں ایمان سے مراد اس مضمون سے ہے جو لَيْسَ البر (البقرة :۱۷۸) میں جس کا بیان ہے اور نیز پارہ ۵ رکوع ۱۶۔اور ان ایمانیات کے منوانے میں کسی زبر دستی کی ضرورت نہیں جیسے آیت الکرسی میں لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرة: ٢٥٧) اور لَوْ شَاءَ رَبُّكَ (الانعام : ۱۱۳) میں ہے۔ایسے ایمان ہی میں صرف صاف صاف تبلیغ کر دینی چاہئے پھر جس کا جی چاہے مانے اور جس کا جی چاہے نہ مانے جیسے فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنُ (الكهف :۳۰) ایک ایمان محض زبانی اقرار ہوتا ہے جو ایک قسم کا فریب ہے اس ایمان والے کو نتیجہ جناب الہی سے مردود ہونے کا ملتا ہے اور نیکی اور بدی کی تمیز اس سے جاتی رہتی ہے اور تکبر اور خود داری اور ریا کاری اور ظلم اور بد عملی اور بے ایمانی اس کا شیوہ ہو جاتا ہے جیسے وَمِنَ النَّاسِ اس پر شاہد ہے اور اسی کے لئے ارشاد ہوتا ہے قَالَتِ الْأَعْرَابُ امنا (الحجرات : ۱۵) اور حقیقی ایمان سے خدا کی محبت شیطان اور بدکاریوں سے نفرت ہوتی ہے اور خدا اس کی خاص مددفرماتا ہے اور اس کو ظلمت سے نور کی طرف لاتا ہے جیسے آیت الکرسی کے رکوع کی آخری آیت اس پر دلالت کر رہی ہے اور وَهُوَ خَيْرُ النَّصِرِينَ اور مَعَ الْمُتَّقِينَ اور حَقًّا عَلَيْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِينَ وغیرہ آیات کثیرہ۔چوتھے ایمان کی حیات اعمال صالحہ سے جو ایماندار ہے اس کو اپنے اعمال درست رکھنا چاہئے اور ایمان کے باغ کو عملِ صالح کے پانی سے ترو تازہ رکھے تا وہ اس خوشخبری کا مستحق ہو۔وَبَشِّرِ الَّذِينَ امَنُوْا وَعَمِلُوا الصلحت (البقرة :۳۶) وغیرہ آیات کثیرہ اور یہاں بھی اسی ایمان کی طرف اشارہ ہے۔آیت نمبر ۲۔قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الخ - فتح مندی کا طریقہ یہ بتلایا کہ نماز با حضوری قائم کریں۔زکوۃ دیں غرض کتاب اللہ پر عمل کریں۔براہین کے حصہ پنجم میں ان آیات کی بہت ہی اچھی تفسیر لکھی ہے۔خَاشِعُونَ کی تفسیر میں صوفیا نے فرمایا۔ہم دعا از تو اجابت ہم ز تو۔عبادت میں پورا تذلیل ہو خلاف حق خودی مٹ جائے۔