اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 65
سيقول ٢ البقرة ٢ يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ قُلْ هِيَ مَوَاقِيْتُ ۱۹۰۔(اے پیغمبر ) تجھ سے لوگ نئے چاند لِلنَّاسِ وَالْحَجَّ وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا کے حالات) دریافت کرتے ہیں تو جواب دے کہ اس سے لوگوں کے ( کاموں کے ) الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ وقت معلوم ہوتے ہیں اور حج کے، اور گھروں اتَّقَى وَأتُوا الْبُيُوتَ مِنْ اَبْوَابِهَا وَاتَّقُوا میں پچھواڑوں کی طرف سے آنا کچھ نیکی نہیں لے بلکہ نیکی تو اس کی ہے جس نے اللہ کوسپر بنایا اور اللہ سے ڈرا اور گھروں میں آؤ تو دروازوں میں سے اللهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ) آؤ اور اللہ ہی سے ڈرو تا کہ نہال با مراد ہو جاؤ۔وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُونَكُمْ 191۔اور اللہ کی راہ میں تم اُن سے لڑو جو لوگ تم وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ سے لڑیں اور زیادتی نہ کرو۔بے شک اللہ دوست نہیں رکھتا زیادتی کرنے والوں کو۔وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ ۱۹۲۔اور قتل کرو ان کو جہاں پاؤ اور نکال دو اُن کو وَأَخْرِجُوهُمْ مِنْ حَيْثُ اَخْرَجُوكُمْ جہاں سے انہوں نے تم کو نکال دیا اور فساد اور وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۚ وَلَا شرارت تو قتل سے بھی بڑھ کر ہے اور کافروں سے مت لڑو ادب والی مسجد کے پاس جب وہ نہ تُقْتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّى لے رسم و رواج کی پابندی بیکار ہے طریقہ مسنون ہونا چاہیے یعنی راہ رسول۔آیت نمبر ۱۹۰ - يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ - رمضان کے متعلق انہوں نے جب فضائل سنے تو انہیں شوق ہوا کہ اور مہینوں کے متعلق ہم احکام معلوم کریں۔آیت نمبر ۱۹ - الَّذِيْنَ يُقَاتِلُونَكُمْ۔مخالفوں سے لڑو امام کے ساتھ ہو کر۔ارشاد نبوی ہے الْاِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِه یعنی امام ایک سپر ہے اس کے پیچھے ہو کر لڑا جاتا ہے اور جنگ شرعی ہمیشہ دفاعی ہوتا اور اصلاحی ہوتا ہے نہ ملک گیری اور غلبہ۔لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ - مذہبی آزادی ہو جائے ابطال و اعدام مذاہب مراد نہیں بلکہ امن قائم کرنا۔جبری اسلام نہیں۔جہاد اس وقت تک ہے کہ مومن فتنہ اور فساد سے کفار کے آزاد ہو جائیں اور امن عام حاصل کر لیں اور رسوم دینیہ میں مغلوب و مجبور نہ ہوں۔